Urdu book · مطالعہ قرآن

انسان کا مستقبل

Urdu book, p. 231

By Maulana Wahiduddin Khan

چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ اور اللہ دلوں تک کی باتوں کا جاننے والا ہے (التغابن ۱۔۴) ”کائنات اللہ کی تسبیح کر رہی ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس حقیقت کو قرآن میں کھولا ہے۔ کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے، وہ زبانِ حال سے حمد و ستائش کی حد تک اس کی تائید کر رہی ہے۔ اس دو طرفہ اعلان کے باوجود جو لوگ مومن نہ بنیں، اس کے بعد انہیں تیسرے اعلان کا انتظار کرنا چاہئے جب کہ تمام لوگ خدا کے یہاں جمع کئے جائیں گے تا کہ خود مالکِ کائنات کی زبان سے اپنے بارہ میں آخری فیصلہ کو سنیں۔ انسان کے سوا اس دنیا میں جو چیزیں ہیں، ان میں مومن اور منکر کی تقسیم نہیں۔ یہاں تمام چیزیں اقرار و ایمان کی سطح پر جی رہی ہیں۔ یہ صرف انسان کی دنیا ہے جہاں یہ تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ یہ تقسیم اس لیے ہے کہ انسان کو قول و عمل کی آزادی دی گئی ہے۔ تاہم یہ آزادی انسان کا حق نہیں۔ اس آزادی کے باوجود انسان کو وہی کرنا ہے جو بقیہ کائنات کر رہی ہے۔ جو لوگ ایسا نہ کریں وہ زندگی کے اگلے دور میں سخت عذاب کے مستحق قرار پائیں گے۔ ہار اور جیت انکار کرنے والوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ہرگز دوبارہ اٹھائے نہ جائیں گے، کہو کہ ہاں، میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ پھر تم کو بتایا جائے گا جو کچھ تم نے کیا ہے، اور یہ اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔ پس اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول پر اور اس کے نور پر جو ہم نے اتارا ہے۔ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ جس دن وہ تم سب کو ایک جمع ہونے کے دن جمع کرے گا۔ یہی دن ہار جیت کا دن ہوگا، اور جو شخص اللہ پر ایمان لایا ہوگا اور اس نے نیک عمل کیا ہوگا، اللہ اس کے گناہ اس سے دور کر دے گا اور اس کو باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی، اور جن لوگوں نے انکار کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی آگ والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اور وہ برا ٹھکانا ہے (التغابن ۷-۱۰)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page