Urdu book · مطالعہ قرآن

انسان کا مستقبل

Urdu book, p. 232

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگ دنیا کو ہار جیت (التغابن) کی جگہ سمجھتے ہیں۔ کسی شخص کو یہاں کامیابی مل جائے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ اور جو شخص یہاں ناکامی سے دوچار ہو وہ لوگوں کی نظر میں حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کی ہار بھی بے قیمت ہے اور یہاں کی جیت بھی بے قیمت۔ ہار جیت کا اصل مقام آخرت ہے۔ ہارنے والا وہ ہے جو آخرت میں ہارے اور جیتنے والا وہ ہے جو آخرت میں جیتے ۔ اور وہاں کی ہار جیت کا معیار بالکل مختلف ہے۔ دنیا میں ہار جیت ظاہری مادیات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اور آخرت کی ہار جیت خدائی اخلاقیات کی بنیاد پر ہو گی ۔ اس وقت دیکھنے والے یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ یہاں سارا معاملہ بالکل بدل گیا ہے۔ جس پانے کو لوگ پانا سمجھ رہے تھے وہ دراصل کھونا تھا۔ اور جس کھونے کو لوگوں نے کھونا سمجھ رکھا تھا وہی در اصل پانا تھا۔ جس کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ وہ اس کے پاس ہے، اصل وہ چیز ہی بس کو پانا کہا جائے۔ اسی دن کی ہار ہار ہے اور اسی دن کی جیت جیت۔ دنیا بھی ہار اور جیت کا میدان ہے اور آخرت بھی ہار اور جیت کا میدان۔ مگر دونوں میں یہ فرق ہے کہ دنیا کی ہار اور جیت دونوں صرف وقتی ہیں۔ جب کہ آخرت کی ہار اور جیت دونوں ابدی ہیں۔ اور اسی کے ساتھ کامل بھی۔ مصیبت کیوں جو مصیبت بھی آتی ہے اللہ کے اذن سے آتی ہے۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اللہ اس کے دل کو راہ دکھاتا ہے، اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ اور تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور پھر اگر تم اعراض کرو گے تو ہمارے رسول پر بس صاف صاف پہنچا دنیا ہے۔ اللہ، اس کے سوا کوئی الہ نہیں، اور ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے (التغابن ۱۱- ۱۳) کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے، اور اس لئے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page