Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 233

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر آدمی اپنے آپ کو منفی ردعمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لئے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔ 65-204 نکاح و طلاق اے پیغمبر، جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی مدت پر طلاق دو اور مدت گنتے رہو، اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، الا یہ کہ وہ کوئی کھلی بے حیائی کریں، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا تو اس نے اپنے اوپر ظلم کیا، تم نہیں جانتے شاید اللہ اس طلاق کے بعد کوئی نئی صورت پیدا کردے۔ پھر جب وہ اپنے مدت کو پہنچ جائیں تو یا تو معروف کے مطابق رکھ لویا معروف کے مطابق ان کو چھوڑ دو اور اپنے میں سے دو معتبر گواہ کر لو اور ٹھیک ٹھیک اللہ کے لئے گواہی دو۔ یہ اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔ اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے لئے راہ نکالے گا، اور اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں اس کا گمان بھی نہ گیا ہو، اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے گا تو اللہ اس کے لئے کافی ہے، بے شک اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے، اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک اندازہ ٹھہرارکھا ہے۔ (الطلاق ۳-۱) اسلام میں نکاح کی اصل نباہ ہے۔ تاہم استثنائی طور پر اسلام میں طلاق کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ اسلامی طلاق کا ایک مقرر طریقہ کار ہے جو خاص وقفہ کے درمیان پورا ہوتا ہے۔ اس طرح طلاق کے عمل کو کچھ حدود کا پابند کر دیا گیا ہے۔ ان حدود کا مقصد یہ ہے کہ فریقین کے درمیان آخر وقت تک واپسی کا موقع باقی رہے۔ اور طلاق کا واقعہ کسی قسم کے خاندانی یا سماجی فساد کا ذریعہ نہ بنے، وہی طلاق اسلامی طلاق ہے جس کے پورے عمل کے دوران خدا کے خوف کی روح جاری وساری رہے۔ سرکشی اور انانیت کے تحت دیا ہو اطلاق جائز اسلامی طلاق نہیں۔ ایسا طلاق خواہ قانونی طور پر واقع ہو جائے، وہ ایسے شخص کو خدا کی نظر میں مجرم ثابت کرتا ہے۔ جس کی سزا سے وہ بچ نہیں سکتا، الا یہ کہ وہ تائب ہو اور وہ اپنے جرم کی تلافی کرے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page