خاندانی زندگی
Urdu book, p. 234
By Maulana Wahiduddin Khan
خاندانی زندگی تم ان عورتوں کو اپنی وسعت کے مطابق رہنے کا مکان دو جہاں تم رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کے لئے انہیں تکلیف نہ پہنچاؤ، اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ ان کا وضع حمل ہو جائے۔ پھر اگر وہ تمہارے لئے دودھ پلائیں تو ان کی اجرت انہیں دو۔ اور تم آپس میں ایک دوسرے کو نیکی سکھاؤ۔ اور اگر تم آپس میں ضد کرو تو کوئی اور عورت دودھ پلائے گی۔ چاہئے کہ وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کی آمدنی کم ہو اس کو چاہئے کہ اللہ نے جتنا اس کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرے۔ اللہ کسی پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اتنا ہی جتنا اس کو دیا ہے، اللہ تنگی کے بعد جلدی آسانی پیدا کردے گا (الطلاق ۶-۷) اسلام میں مطلوب یہ ہے کہ آدمی معاملات میں فریق ثانی کے ساتھ فراخ دلی کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ صبر کے ساتھ خلاف مزاج باتوں کو سہرے۔ ناگواریوں کے باوجود دوسرے کا حق ادا کرے۔ جب آدمی ایسا کرتا ہے تو وہ صرف فریق ثانی کے لئے اچھا نہیں کرتا بلکہ خود اپنے لئے بھی اچھا کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کرتا ہے اور حقیقت پسندی کا مزاج بلاشبہ اس دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا زینہ ہے۔ گھر کی زندگی باہر کی سماجی زندگی کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے۔ گھر کے اندر وہ سب کچھ چھوٹے پیمانہ پر پیش آتا ہے جو باہر کی سماجی زندگی میں زیادہ بڑے پیمانہ پر پیش آتا ہے۔ اس اعتبار سے گھر گویا ایک تربیت گاہ ہے۔ جو آدمی اپنے گھر کی زندگی میں صحیح انسان ثابت ہو وہ یقینی طور پر وسیع تر سماجی زندگی میں بھی صحیح انسان ثابت ہوگا۔ 206-66 عذاب سے نجات اے ایمان والو، اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader