خاندانی زندگی
Urdu book, p. 235
By Maulana Wahiduddin Khan
اور پتھر ہوں گے۔ اس پر تند خو اور زبردست فرشتے مقرر ہیں۔ اللہ ان کو جو حکم دے اس میں وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اور وہ وہی کرتے ہیں جس کا ان کو حکم ملتا ہے۔ اے لوگوں جنہوں نے انکار کیا، آج عذر نہ پیش کرو، تم وہی بدلہ میں پا رہے ہو جو تم کرتے تھے۔ (التحریم ۶۔۷) موجودہ دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک چیز کو حق سمجھتا ہے، مگر بیوی بچوں سے بڑھا ہوا تعلق اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ حق کے طریقہ کو چھوڑ دے اور وہی کرے جو اس کے بیوی بچے چاہتے ہیں۔ مگر یہ زبردست بھول ہے۔ انسان کو یاد رکھنا چاہئے کہ آج جن بچوں کی رعایت کرنے میں وہ اس حد تک جاتا ہے کہ حق کی رعایت کرنا بھول جاتا ہے، وہ بچے اپنی اس روش کے نتیجے میں کل ایسے جہنمی کارندوں کے حوالے کئے جائیں گے جو مشینی انسان (Robot) کی طرح بے رحم ہوں گے اور ان کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں کریں گے۔ حق مکمل طور پر واضح ہے۔ انسان کی فطرت اور خدا کی وحی دونوں اس کی صداقت کا غیر مبہم اعلان کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں انسان کا کوئی بھی عذر قابل لحاظ نہیں۔ دنیا میں جھوٹے عذرات (excuses) کی بنا پر انسان حق سے انحراف کرتا ہے مگر آخرت میں راز کھل جائے عذرات (excuses) ہی بنا پر انسان عمل سے اعراض کرتا ہے۔ مگر آخرت میں اس پر کھل جائے گا کہ اس کا کیس سرکشی کا کیس تھا نہ کہ عذر کا کیس۔ 66-207 آخرت کی روشنی اے ایمان والو، اللہ کے آگے سچی توبہ کرو۔ امید ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ جس دن اللہ نبی کو اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑ رہی ہو گی۔ وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہمارے لئے ہماری روشنی کو کامل کر دے اور ہماری مغفرت فرما۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے (التحریم ۸) موجودہ دنیا میں انسان کو آزمائشی حالات میں رکھا گیا ہے۔ اس لئے انسان سے غلطیاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader