Urdu book · مطالعہ قرآن

خاندانی زندگی

Urdu book, p. 236

By Maulana Wahiduddin Khan

بھی ہوتی ہیں۔ اس کی تلافی کے لئے توبہ ہے۔ یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنا۔ توبہ کی اصل حقیقت شرمندگی ہے۔ آدمی کو اگر واقعتاً اپنی غلطی کا احساس ہو تو وہ سخت شرمندہ ہوگا اور اس کی شرمندگی اس کو مجبور کرے گی کہ وہ آئندہ ایسا فعل نہ کرے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ شرمندگی ہی توبہ ہے (الندم توبة)۔ ایک صحابی نے کہا کہ سچی توبہ یہ ہے کہ آدمی رجوع کرے اور پھر اس فعل کو نہ دہرائے (يتوب ثم لا يعود)۔ توبہ وہ ہے جو سچی توبہ (توبة النصوح) ہو۔ محض الفاظ دہرادینے کا نام توبہ نہیں۔ حضرت علی نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنی کسی غلطی کے بعد زبان سے توبہ کہہ رہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ جھوٹے لوگوں کی توبہ (توبۃ الكاذبين) ہے۔ سچی توبہ آخرت کی روشنی ہے اور جھوٹی توبہ آخرت کا اندھیرا۔ 67-208 انسان اور بقیہ کائنات بڑا بابرکت ہے وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے، اور وہ زبردست ہے، بخشنے والا۔ جس نے بنائے سات آسمان اوپر تلے، تم رحمن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے۔ پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی نظر آتا ہے۔ پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو، نگاہ ناکام تھک کر تمہاری طرف واپس آجائے گی۔ (الملک ۱-۴) جب ایک شخص موجودہ دنیا کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو یہاں ایک تضاد نظر آتا ہے۔ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے۔ اس میں کہیں بھی کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس انسانی زندگی میں ظلم و فساد دکھائی دیتا ہے۔ اس کی وجہ انسان کی علیحدہ نوعیت ہے۔ انسان اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے۔ اسی عمل کی آزادی نے انسان کو یہ موقع دیا کہ وہ دنیا میں ظلم و فساد کر سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page