Urdu book · مطالعہ قرآن

خاندانی زندگی

Urdu book, p. 237

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانی دنیا کا ظلم انسانی آزادی کی قیمت ہے۔ اگر یہ حالات نہ ہوں تو ان قیمتی انسانوں کا انتخاب کیسے کیا جائے گا۔ جنہوں نے ظلم کے مواقع پاتے ہوئے ظلم نہیں کیا۔ جنہوں نے سرکشی کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچائے رکھا۔ 67-209 صحیح رائے قائم کرنا کیا جو شخص اوندھے منہ چل رہا ہے وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ شخص جو سیدھا ایک صراط مستقیم پر چل رہا ہے۔ کہو کہ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے لئے کان اور آنکھ اور دل بنائے۔ تم لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔ کہو کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا اور تم اسی کی طرف اکٹھا کئے جاؤگے۔ (الملک۔۲۲۔۲۳) انسان کو سننے اور دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ اب کوئی انسان وہ ہے کہ جو کچھ اس نے سناسی پر چل پڑا۔ جو دیکھا اس کو بس اس کے ظاہر کے اعتبار سے مان لیا۔ جو بات ایک بار ذہن میں آگئی اسی پر جم گیا۔ یہ انسان وہ ہے جو جانوروں کی طرح سر جھکائے ہوئے بس ایک ڈگر پر چلا جا رہا ہے۔ دوسرا انسان وہ ہے جو سنی ہوئی بات کی تحقیق کرے۔ جو دیکھی ہوئی بات کو یقینی صحت کے ساتھ جاننے کی کوشش کرے۔ جو اپنے ذاتی خول سے باہر نکل کر سچائی کو دریافت کرے۔ یہ دوسرا انسان وہ ہے جو سیدھا ہو کر ایک ہموار راستے پر چلا جا رہا ہے۔ سمع وبصر وفؤاد کی صلاحیت آدمی کو اس لئے دی گئی ہے کہ وہ حق کو پہچانے ، نہ یہ کہ وہ اندھے بہرے کی طرح اس سے بے خبر رہے۔ 210-68 اعلیٰ اخلاق ن، قسم ہے قلم کی اور جو کچھ لوگ لکھتے ہیں۔ تم اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہو ۔ اور بے شک تمہارے لئے اجر ہے کبھی ختم نہ ہونے والا۔ اور بے شک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page