زیر نظر کتاب کی ترتیب
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
بسم الله الرحمن الرحيم بسم اللہ الرحمن الرحیم کا جملہ قرآن میں ۱۱۴ بار آیا ہے۔ وہ سورۃ التوبہ کے سوا ہر سورہ کے آغاز میں موجود ہے، اور سورہ النمل (آیت ۳۰) میں ایک بار آیا ہے۔ اس غیر معمولی تکرار سے اس کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم کا مطلب ہے میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ آدمی جب کسی کام کو شروع کرتا ہے تو وہ اس کو کسی نہ کسی بھروسہ پر شروع کرتا ہے۔ مثلاً ذہنی یا جسمانی طاقت، مال و دولت، اعوان و انصار، حالات و اسباب، وغیرہ۔ یہ سب کام شروع کرنے کے غیر مومنانہ طریقے ہیں۔ کسی کام کو شروع کرنے کا مومنانہ طریقہ یہ ہے کہ اس کو اللہ کے بھروسے پر شروع کیا جائے ۔ آدمی جب کوئی کام شروع کرے تو اس کا سینہ ربانی جذبات سے بھرا ہوا ہو ۔ بندے کے لئے کسی کام کا سب سے بہتر آغاز یہ ہے کہ وہ اپنے کام کو اپنے رب کے نام سے شروع کرے ۔ وہ ہستی جو تمام رحمتوں کا خزانہ ہے اور جس کی رحمتیں ہر وقت ابلتی رہتی ہیں۔ اس کے نام سے کسی کام کا آغاز کرنا گویا اس سے یہ دعا کرنا ہے کہ تو اپنی بے پایاں رحمتوں کے ساتھ میری مدد کے لئے آجا۔ اور میرے کام کو خیر و خوبی کے ساتھ مکمل کر دے۔ یہ بندے کی طرف سے اپنی بندگی کا اعتراف ہے اور اسی کے ساتھ اس کی کامیابی کی الہی ضمانت بھی۔ قرآن کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ مومن کے قلبی احساسات کے لئے صحیح ترین الفاظ مہیا کرتا ہے۔ بسم اللہ اسی نوعیت کا ایک دعائیہ کلمہ ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كل أمر ذي بال لم يبدأ فيه بسم الله الرحمن الرحيم اقطع (التفسیر المظہری، ۱/ ۲) یعنی ہر قابل اہتمام امر جس کو بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع نہ کیا جائے وہ مقطوع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی کام صرف اس وقت اپنی تکمیل تک پہنچتا ہے جب کہ اس کو خدائی نظام کی مساعدت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader