Urdu book · مطالعہ قرآن

زیر نظر کتاب کی ترتیب

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

حاصل ہو جائے۔ کسی کام کو بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کرنا گویا یہ کہنا ہے کہ خدا یا میں نے اپنی کوشش سے ایک کام کا آغاز کیا ہے اب تو اپنی مدد سے اس کو آخری تکمیل تک پہنچادے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم کوئی پر اسرار کلمہ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان مخصوص حروف اور الفاظ میں کوئی طلسماتی تاثیر چھپی ہوئی ہے اور جب ایک شخص اس کو اپنی زبان سے صحیح تلفظ کے ساتھ ادا کرتا ہے تو وہ پر اسرار طور اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔ بلکہ یہ الفاظ اس انسان کے اعلی جذبات و کیفیات کی علامت ہیں جو خدا کو معرفت کے درجہ میں پائے ہوئے ہو۔ جس کا یقین ہو کہ خدا قادر مطلق ہے، اسی کی مدد سے ہو گا جو کچھ ہو گا، اس کی مدد کے بغیر اس دنیا میں کچھ بھی ہونے والا نہیں۔ یہ احساس جب لفظوں کی صورت میں ڈھل جائے تو اسی کا نام بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنا ہے۔ اس کلمہ میں خاص طور پر اللہ کی صفت رحمت کا ذکر ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی نسبت سے اسی صفت کی سب سے زیادہ اہمیت ہے۔ اللہ کی یہی صفت ہے جس کی بنا پر آدمی اس کے اعلی عطیات اور انعامات کا مستحق بنتا ہے۔ اللہ کا ہر چیز پر قادر ہونا اس کے ذاتی کمال کا مظہر ہے، اور اس کار حسن در رحیم ہونا اس کا متقاضی ہے کہ وہ اپنی قدرت کے خزانوں میں انسان کو حصہ دار بنائے۔ انسان مکمل طور پر ایک عاجز مخلوق ہے۔ ایک خود شناس انسان جب بھی کسی عمل کا آغاز کرتا ہے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، تو اس وقت فطری طور پر اس کو محسوس ہوتا ہے کہ کوئی برتر ہستی ہو جو اس کے عجز کی تلافی کرے۔ جو کام وہ خود اپنی طاقت سے نہیں کر سکتا اس کو وہ اپنی برتر مدد کے ذریعہ مکمل کرے۔ یہی فطری احساس ہے جو ہر کام کے آغاز میں ایک خود شناس انسان کی زبان پر بار بار جاری ہوتا رہتا ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ایک جامع کلمہ ہے۔ وہ دعا بھی ہے اور ذکر بھی ہے، اور خدا کی عظمت اور اس کے مقابلے میں انسان کی عبدیت کی یاد دہانی بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page