Urdu book · مطالعہ قرآن

خاندانی زندگی

Urdu book, p. 239

By Maulana Wahiduddin Khan

والوں کے لئے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں اس کے جھٹلانے والے ہیں اور وہ منکروں کے لئے پچھتاوا ہے۔ اور یہ یقینی حق ہے۔ پس تم اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ (الحاقہ ۳۸-۵۲) جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے ــــــــ اس کا مطلب یہ ہے کہ نزول قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کالم کے بر حق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کر سکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ اس کو نہ مانیں وہ اپنے بارہ میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔ اگر وہ لوئی بات ٹھہر کر لگاتا تو، ہم اس کو پکڑتے اور اس لو کاٹ ڈالتے۔‘‘ اس ارشاد الہی سے ایک اہم حقیقت مستنبط ہوتی ہے وہ یہ کہ رسول خدا ہونے کا دعویٰ کرنا کوئی آسان بات نہیں۔ یہ بے حد سنگین بات ہے۔ اس دنیا میں کسی غیر پیغمبر کو خدا یہ موقع دینے والا نہیں کہ وہ اپنی زبان سے اس قسم کا غیر معمولی اعلان کرے۔ حتی کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں خدا نے انسان کو فطری طور پر اتنا زیادہ دہشت زدہ کر رکھا ہے کہ پوری تاریخ میں کوئی بھی غیر پیغمبر یہ کہنے کی جرات نہ کر سکا کہ ’’میں خدا کا پیغمبر ہوں‘‘۔ 70-212 جنت کے باشندے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ سرکش لوگ آخرت میں آگ کے عذاب کی گرفت میں آجائیں گے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا ہے: مگر وہ نمازی جو اپنی نماز کی پابندی کرتے ہیں۔ اور جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا معین حق ہے۔ اور جو انصاف کے دن پر یقین رکھتے ہیں۔ اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بے شک ان کے رب کے عذاب سے کسی کو نڈر نہ ہوتا چاہئے۔ اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ مگر اپنی بیویوں سے یا اپنی مملوکہ عورتوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page