Urdu book · مطالعہ قرآن

خاندانی زندگی

Urdu book, p. 240

By Maulana Wahiduddin Khan

سے، پس ان پر ان کو کوئی ملامت نہیں۔ پھر جو شخص اس کے علاوہ کچھ اور چاہے تو وہی لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کو نباہتے ہیں۔ اور جو اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیں۔ اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہی لوگ جنتوں میں عزت کے ساتھ ہوں گے۔(المعارج ۱۵۔۳۵) ان آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ وہ کون خوش نصیب لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی جنتوں میں بسائے جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں صلوٰۃ (نماز) کے پابند رہے۔ یعنی انہوں نے اپنے رات دن کے اوقات کو خدا کی عبادت کے ماتحت کیا۔ جنہوں نے اپنی پوری زندگی اس طرح گزاری کہ وہ خدا کے آگے جھکے ہوئے تھے۔ اسی طرح ان کا حال یہ تھا کہ انہوں نے جو کچھ کمایا اس کو اپنی ذاتی چیز نہیں سمجھا بلکہ خدا کا عطیہ سمجھا۔ ان کا یہ احساس اس طرح ظاہر ہوا کہ وہ اپنے مال میں خدا کے دوسرے بندوں کو شریک کرتے رہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی پوری زندگی اس طرح گزری کہ وہ ہر لمحہ اس اندیشہ میں مبتلا رہے کہ وہ مرنے والے ہیں اور مرنے کے بعد انہیں خدا کی عدالت میں اپنے قول و عمل کا حساب دینا ہے۔ اسی طرح انہوں نے اپنے شہوانی جذبات کو پوری طرح قابو میں رکھا۔ اس سلسلہ میں وہ خدا کے حدود سے باہر نہیں گئے۔ اسی طرح ان لوگوں کا حال یہ تھا کہ امانت اور عہد کے معاملہ میں پوری طرح ذمہ دار ثابت ہوئے۔ انہوں نے نہ کسی سے خیانت کا معاملہ کیا اور نہ کسی سے بد عہدی کا۔ اسی طرح انہوں نے ہمیشہ اپنی گواہی کے تقاضے کو پورا کیا۔ جو لوگ دنیا میں اس طرح با اصول اور ذمہ دارانہ زندگی گزاریں وہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔ 71-213 اکابر پرستی نوح نے کہا کہ اے میرے رب، انہوں نے میرا کہنا مانا اور ایسے آدمیوں کی پیروی کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page