Urdu book · مطالعہ قرآن

خاندانی زندگی

Urdu book, p. 241

By Maulana Wahiduddin Khan

جن کے مال اور اولاد نے ان کے گھاٹے ہی میں اضافہ کیا اور انہوں نے بڑی تدبیریں کیں۔ اور انہوں نے کہا کہ تم اپنے معبودوں کو ہر گز نہ چھوڑنا۔ اور تم ہر گز نہ چھوڑنا ود کو اور سوا ع کو اور یغوث کو اور یعوق کو اور نسر کو۔ اور انہوں نے بہت لوگوں کو بہکا دیا۔ اور اب تو ان گمراہوں کی گمراہی میں ہی اضافہ کر اپنے گناہوں کے سبب سے وہ غرق کئے گئے۔ پھر وہ آگ میں داخل کر دئے گئے۔ پس انہوں نے اپنے لئے اللہ سے بچانے والا کوئی مددگار نہ پایا (نوح ۲۱ - ۲۵) حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو تاریخی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کئے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو پھولے تھے انہوں نے اس لئے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔ حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواغ اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف دلائل پر انحجار قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے بعد کو ود اور سواغ اور یغوث اور یعوق اور نسر لوگویکا نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کر دیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کر دیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔ یہی تاریخ کے ہر دور میں دعوت سے انحراف کا سبب رہا ہے۔ قدیم شخصیتیں تاریخی اسباب سے لوگوں کو بڑی دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں معاصر داعی لوگوں کو کم تر نظر آتا ہے۔ اس ظاہری فرق کی بنا پر لوگ قدیم شخصیتوں سے عقیدت رکھتے ہوئے معاصر داعی کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ یہ ایک سنگین امتحان ہے جو قدیم لوگوں کو پیش آیا اور بعد کے زمانہ میں بھی وہ پیش آتار ہے گا۔ یہی وہ کسوٹی ہے جس پر ہر ایک کو اپنے اعتراف حق کا ثبوت دینا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page