Urdu book · مطالعہ قرآن

خاندانی زندگی

Urdu book, p. 242

By Maulana Wahiduddin Khan

معرفت حق یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے اس چیز کو جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو وہ جان لیں گے کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کون تعداد میں کم ہے۔ کہو کہ میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا میرے رب نے اس کے لئے لمبی مدت مقرر کر رکھی ہے۔ غیب کا جاننے والا وہی ہے۔ وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ سوا اس رسول کے جس کو اس نے پسند کیا ہو، تو وہ اس کے آگے اور پیچھے محافظ لگا دیتا ہے۔ تاکہ اللہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادئے ہیں اور وہ ان کے ماحول کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور اس نے ہر چیز کو گن رکھا ہے۔ (الجن: ۲۶۔ ۲۸) (۴۸_۴۱:۱)رہاہے حق کا داعی بظاہر ایک عام انسان ہوتا ہے۔ اس لئے وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں جن کے اوپر اس کی دعوت کی زد پڑ رہی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ داعی حق کے خلاف کار روائی خود خدا کے خلاف کار روائی ہے، اور کون ہے جو خدا کے خلاف کار روائی کر کے کامیاب ہو۔ اس دنیا میں انسان کا سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے جیسے ایک انسان کو داعی حق کے روپ میں پہچانے۔ وہ ایک انسان کو نمائندہ خدا کی حیثیت سے دریافت کرے۔ وہ کسی مادی زور یا تاریخی عظمتوں کے بغیر حق کے علم بردار کا اعتراف کرے۔ انسان کا یہی امتحان پیغمبروں کے دور میں بھی تھا اور اس کا یہی امتحان پیغمبروں کے دور کے بعد بھی باقی ہے، اس فرق کے ساتھ کہ پہلے یہ امتحان پیغمبر کی سطح پر ہوتا تھا اور بعد کو یہ امتحان داعی حق کی سطح پر ہو گا۔ معرفت حق کے اس امتحان میں پورا اترے بغیر کسی بھی شخص کی حق پرستی متحقق نہیں۔ 73-215 قرض حسن بے شک تمہارا رب جانتا ہے کہ تم دو تہائی رات کے قریب یا آدھی رات یا ایک تہائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page