خاندانی زندگی
Urdu book, p. 243
By Maulana Wahiduddin Khan
رات قیام کرتے ہو، اور ایک گروہ تمہارے ساتھیوں میں سے بھی۔ اور اللہ ہی رات اور دن کا اندازہ ٹھہراتا ہے، اس نے جانا کہ تم اس کو پورا نہ کر سکو گے۔ پس اس نے تم پر مہربانی فرمائی، اب قرآن سے پڑھو جتنا تم کو آسان ہو، اس نے جانا کہ تم میں بیمار ہوں گے اور کتنے لوگ اللہ کے فضل کی تلاش میں زمین میں سفر کریں گے اور دوسرے ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے۔ پس اس میں سے پڑھو جتنا تم کو آسان ہو، اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو قرض دو اچھا قرض۔ اور جو بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو اللہ کے یہاں موجود پاؤ گے، وہ بہتر ہے اور ثواب میں زیادہ، اور اللہ سے معافی مانگو، بے شک اللہ بخشنے والا، مہربان ہے (المزمل ۲۰) دین میں جو فرض اعمال ہیں وہ عام انسان کی استطاعت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مقرر کئے گئے ہیں، مگر یہ حراس لازی حدود کو بتاتے ہیں۔ اس لازی حد کے آگے بھی مطلوب اعمال ہیں، مگر وہ نوافل ہیں۔ مثلاً پانچ وقتہ نمازوں کے بعد تہجد، زکوۃ کے بعد مزید انفاق ، حج کے بعد عمرہ وغیرہ۔ یہ آدمی کے اپنے حوصلے کا امتحان ہے کہ وہ کتنا زیادہ عمل کرتا ہے اور آخرت میں کتنا زیادہ انعام کا مستحق بنتا ہے۔ "قرض حسن "کا لفظ بتاتا ہے کہ اس معاملہ کا تعلق صرف عبادات سے نہیں ہے بلکہ دوسرے اعمال دین سے بھی ہے۔ مثلاً اخلاقی سلوک میں لوگوں کے ساتھ اس سے زیادہ کرنا جتنا انہوں نے آپ کے ساتھ کیا ہے۔ اسی طرح دعوتی عمل میں کسی معاوضہ کی توقع کے بغیر زیادہ اپنا وقت اور مال خرچ کرنا، وغیرہ۔ سچا مومن وہ ہے، جس کے تمام اعمال میں قرض حسن یا عمل مزید کا یہ روپ سرایت کئے ہوئے ہو۔ 74-216 صفات مومن اے کپڑے میں لپٹنے والے، اٹھ اور لوگوں کو ڈرا۔ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ اور اپنے کپڑے کو پاک رکھ۔ اور گندگی کو چھوڑ دے۔ اور ایسا نہ کرو کہ احسان کرو اور بہت بدلہ چاہو اور اپنے رب کے لئے صبر کرو (المدثر ۱-۷) اس دنیا میں اصل پیغمبرانہ کام انذار ہے۔ یعنی آخرت میں پیش آنے والے سنگین مسئلہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader