خاندانی زندگی
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ یہ کام وہی شخص کر سکتا ہے جس کا دل اللہ کی بڑائی سے لبریز ہو۔ جو اچھے اخلاق کا مالک ہو۔ جو ہر قسم کی برائی سے دور ہو۔ جو بدلہ کی امید کے بغیر نیکی کرے۔ جو دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں پر یک طرفہ صبر کر سکے۔ ”وربك فكبر“ سے مراد داخلی تکبیر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے دل و دماغ میں خدا کی عظمت کا تصور اتنا زیادہ چھا جائے کہ اس کا اظہار الفاظ کی صورت میں ہونے لگے۔ گویا اس آیت سے مراد وہی چیز ہے جس کو ذکر رب کہا جاتا ہے۔ جب ایک شخص کو خدا کی گہری معرفت ہوتی ہے تو اس کا سینہ خدا کی عظمت و کبریائی سے بھر جاتا ہے۔ اس کی روح خدا کی بڑائی کے احساس میں غرق ہو جاتی ہے۔ اس کی زبان ہمیشہ خدا کے جلال و کمال کے تذکرے سے تر رہتی ہے۔ وہ اپنے اندر سے لے کر باہر تک خدائی بڑائی کے احساس میں سرشار ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی انسان حقیقی مومن ہے اور ایسا ہی انسان دعوت حق کی ذمہ داریوں کو ادا کر سکتا ہے۔ 217-75 نفس لوامہ نہیں، میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔ اور نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔ کیا انسان خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کریں گے۔ کیوں نہیں، ہم اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کی پور پور تک درست کر دیں۔ بلکہ انسان چاہتا ہے کہ ڈھٹائی کرے اس کے سامنے۔ وہ پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا۔ پس جب آنکھیں خیرہ ہو جائیں گی۔ اور چاند بے نور ہو جائے گا۔ اور سورج اور چاند اکٹھا کر دئے جائیں گے۔ اس دن انسان کہے گا کہ کہاں بھاگوں۔ ہر گز نہیں، کہیں پناہ نہیں۔ اس دن تیرے رب ہی کے پاس ٹھکانا ہے۔ اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔ بلکہ انسان خود اپنے آپ کو جانتا ہے، چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔ (القیامہ ١-١۵) انسان کے اندر پیدائشی طور پر یہ شعور موجود ہے کہ وہ برائی اور بھلائی میں تمیز کرے۔ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader