Urdu book · مطالعہ قرآن

خاندانی زندگی

Urdu book, p. 245

By Maulana Wahiduddin Khan

عین اپنی فطرت کے تحت یہ چاہتا ہے کہ برائی کرنے والے کو سزا ملے اور بھلائی کرنے والے کو انعام دیا جائے۔ یہی وہ شعور ہے جس کو قرآن میں نفس لوامہ کہا گیا ہے۔ یہ نفس لوامہ عالم آخرت کے حقیقی ہونے کی ایک نفسیاتی شہادت ہے۔ اس داخلی شہادت کے بعد جو شخص اس کے تقاضے پورے نہ کرے وہ گویا اپنی ہی مانی ہوئی بات کا انکار کر رہا ہے۔ اس آیت میں نفس لوامہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو عام طور پر ضمیر (Conscience) کہا جاتا ہے۔ یہ ضمیر استثنائی طور پر صرف انسان کے اندر موجود ہے۔ حیوانات بھی بظاہر انسان جیسی ایک مخلوق ہیں۔ مگر کسی بھی حیوان کے اندر ضمیر جیسی صفت موجود نہیں۔ انسان کے اندر استثنائی طور پر ضمیر جیسی ایک صفت کا موجود ہونا ثابت کرتا ہے کہ انسان کا معاملہ دوسرے حیوانات سے بالکل مختلف ہے۔ خود اپنے ہی فطری معیار کے مطابق، انسان یہ چاہتا ہے کہ اچھے اور برے کے در میان فرق کیا جائے۔ اس لئے انسان کے ساتھ اگر احتساب کا معاملہ کیا جائے تو یہ عین وہی معاملہ ہو گا جو اس کی خود اپنی فطرت کا تقاضا ہے۔ مقصد حیات کبھی انسان پر زمانہ میں ایک وقت گزرا ہے کہ وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا۔ ہم نے انسان کو ایک مخلوط بوند سے پیدا کیا، ہم اس کو پلٹتے رہے۔ پھر ہم نے اس کو سننے والا، دیکھنے والا بنا دیا۔ ہم نے اس کو راہ سجھائی، چاہے وہ شکر کرنے والا بنے یا انکار کرنے والا۔ (الدھر ۱- ۳) قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ اس وقت ساری دنیا میں کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ رحم مادر میں انسان کا آغاز ایک مخلوط نطفہ سے ہوتا ہے۔ یہ صرف بیسویں صدی کی بات ہے کہ انسان نے یہ جانا کہ انسان (اور حیوان) کا ابتدائی نطفہ دو اجزاء سے مل کر بنتا ہے۔ ایک عورت کا بیضہ (Ovum) اور دوسرے مرد کا نطفہ (Sperm) یہ دونوں خورد بینی اجزاء جب باہم مل جاتے ہیں، اس وقت رحم مادر میں وہ چیز بننا شروع ہوتی جو بالآخر انسان کی صورت اختیار کرتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page