Urdu book · مطالعہ قرآن

خاندانی زندگی

Urdu book, p. 247

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوۓ جام۔ وہاں وہ لغو بات نہ سنیں گے۔ بدلہ تیرے رب کی طرف سے ہوگا۔ ان کے عمل کے حساب سے رحمان کی طرف سے جو آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کا رب ہے، کوئی قدرت نہیں رکھتا کہ اس سے بات کرے۔ جس دن روح اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے، کوئی نہ بولے گا مگر جس کو رحمان اجازت دے، اور وہ ٹھیک بات کہے گا۔ یہ دن برحق ہے، پس جو چاہے اپنے رب کی طرف ٹھکانا بنالے۔ ہم نے تم کو قریب آجانے والے عذاب سے ڈرا دیا ہے، جس دن آدمی اس کو دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے۔ اور منکر کہے گا، کاش میں مٹی ہوتا۔ (النبا ۳۱-۴۰) جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لئے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لئے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنھوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹی بات سے دور رہ کر زندگی گزارنے والے بندے ہیں۔ ہو لہ وہ عوام اور بھوت سے دور رہ کرزندگی گزارنے کا درس دے رہے ہیں۔ جنت میں کسی شخص کا داخلہ کسی کی سفارش کی بنیاد پر نہیں ہوگا۔ اور نہ وہ کسی دوسری خوش فہمی کی بنیاد پر ہوگا۔ جنت ایک انتہائی نفیس اور لطیف کالونی ہے۔ وہاں کی دنیا میں داخلہ صرف ان انسانوں کے لئے مقدر ہے جو اس کے مطابق لطیف اور نفیس روح لے کر وہاں پہنچیں۔ موجودہ دنیا اسی قسم کے اعلیٰ انسانوں کے انتخاب کے لیے بنائی گئی ہے۔ جو لوگ موجودہ امتحان کی دنیا میں اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کریں گے وہی جنت میں داخلہ کے مستحق قرار پائیں گے۔ 79-221 دنیا کی آزمائش پھر جب وہ بڑا ہنگامہ آئے گا۔ جس دن انسان اپنے لئے کو یاد کرے گا۔ اور دیکھنے والوں کے سامنے دوزخ ظاہر کر دی جائے گی۔ پس جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی، تو دوزخ اس کا ٹھکانا ہو گا اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا، تو جنت اس کا ٹھکانا ہو گا۔ (النازعات ۴۳-۴۱) آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسرے آخرت کی دنیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page