خاندانی زندگی
Urdu book, p. 248
By Maulana Wahiduddin Khan
جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے، مگر یہ کام صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اپنے نفس کی خواہش پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ موجودہ دنیا مختلف قسم کی آزمائشوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہ آزمائشیں بار بار انسان کو نفسیاتی خواہشوں کی طرف لے جاتی ہیں۔ جو آدمی دنیا کی رغبتوں میں کھو جائے، وہ اپنے امتحان میں ناکام رہا۔ اس برے انجام سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو آخرت کے دن خدا کی عدالت میں حاضری پر یقین رکھتا ہو۔ یہ یقین اس کو نفسیاتی خواہشوں میں مبتلا ہونے سے بچا لے گا۔ 80-222 قیامت کازلزلہ پس جب وہ کانوں کو بہرہ کر دینے والا صور برپا ہوگا۔ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے، اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے۔ ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایسا فکر لگا ہوگا جو اس کو کسی اور طرف متوجہ نہ ہونے دے گا۔ کچھ چہرے اس دن روشن ہوں گے، ہنستے ہوئے، خوشی کرتے ہوئے۔ اور کچھ چہروں پر اس دن خاک اڑی ہی ہوگی، ان پر سیاہی چھائی ہوئی ہو گی۔ یہی لوگ منکر ہیں، ڈھٹ ہیں ۔ (عبس ۳۳-۴۲) موجودہ دنیا کے ماحول میں آدمی کو سب سے زیادہ دلچسپی اپنے اہل و عیال سے ہوتی ہے۔ وہ اپنے مادی مفادات کے لئے سب سے زیادہ محبت اپنے دل میں پاتا ہے۔ مگر یہ دلچسپی اور محبت محض غفلت کی وجہ سے ہے نہ کہ شعور کی وجہ سے۔ چونکہ انسان ظاہری حالات کی بنا پر اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ وہ ایک عظیم خطرہ کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ وہ عنقریب آخرت کے زلزلہ خیز حالات سے دوچار ہونے والا ہے۔ مستقبل میں پیش آنے والی اس صورت حال سے بے خبری اس کو مادی چیزوں میں مشغول کئے ہوئے ہے۔ اگر اس کو آنے والے زلزلہ کا احساس ہو جائے تو اس کی موجودہ دلچسپیاں اچانک ختم ہو جائیں۔ آج ہی اس کا وہ حال ہو جائے جو کل اس کا حال ہونے والا ہے، اگرچہ کل ہوش میں آنا کسی کو فائدہ دینے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader