خاندانی زندگی
Urdu book, p. 249
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات کی نشانی پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے، چلنے والے اور چھپ جانے والے ستاروں کی۔ اور رات کی جب وہ جانے لگے۔ اور صبح کی جب وہ آنے لگے کہ یہ ایک با عزت رسول کا لایا ہوا کلام ہے۔ قوت والا، عرش والے کے نزدیک بلند مرتبہ ہے۔ اس کی بات مانی جاتی ہے، وہ امانت دار ہے۔ اور تمہارا ساتھی دیوانہ نہیں۔ اور اس نے اس کو کھلے افق میں دیکھا ہے۔ اور وہ غیب کی باتوں کا حریص نہیں۔ اور وہ شیطان مردود کا قول نہیں تم کدھر جارہے ہو۔ یہ تو بس عالم والوں کے لئے ایک نصیحت ہے، اس کے لئے جو تم میں سے سیدھا چلنا چاہے۔ اور تم نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ رب العالمین چاہے۔ (التکویر ۱۵۔۲۹) زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلتارین کی فوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام ہے جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا ایک انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقع گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لئے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجئے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویا ریموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کر رہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی طرح کا کُنائی اتصال کا ایک واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ 82-224 انسان کا آغاز و انجام اے انسان تجھ کو کس چیز نے اپنے رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال رکھا ہے جس نے تجھ کو پیدا کیا۔ پھر تیرے اعضاء کو درست کیا، پھر تجھ کو متناسب بنایا۔ جس صورت میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader