Urdu book · مطالعہ قرآن

حمد خداوندی

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

حمد خداوندی قرآن کی پہلی سورۃ کی پہلی آیت یہ ہے : الحمد للہ رب العالمین (الفاتحہ ۱) یعنی حمد سب کی سب صرف اللہ کے لئے ہے ، جو سارے جہاں کا رب ہے۔ قرآن کی یہ آیت قرآن کی نسبت سے اس کی تعلیمات کا خلاصہ ہے ، اور انسان کی نسبت سے اس کی فطرت کی بے ساختہ پکار ۔ حمد کا لفظ اس لطیف احساس کے لئے بولا جاتا ہے جو آدمی کے اندر سے خدا کی تعریف اور اس کے شکر کے لئے فطری طور پر ابلتا ہے۔ آدمی کا اپنا وجود اور گردو پیش کی پوری کائنات ہر لمحہ اس کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ تمہارا اور کائنات کا خالق ایک انتہائی عظیم ہستی ہے اور تمہارے اوپر اس ہستی کے عظیم احسانات ہیں۔ یہ گہرا شعور جب آدمی کے اندر پیدا ہو اور اس کا بے تابانہ اعتراف اس کی زبان سے ابل پڑے تو اسی کا نام حمد ہے جو بیک وقت تعریف کا پہلو بھی لئے ہوئے ہے اور شکر کا پہلو بھی۔ آدمی جب اپنے آپ پر غور کرتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کو ایک ایسا وجود دیا گیا ہے جو حیرت ناک حد تک کامل اور با معنی ہے۔ وہ جب اپنے پاؤں سے چلتا ہے اور اپنے ہاتھ سے پکڑتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہاتھ اور یہ پاؤں اس کے لئے اتنی بڑی نعمت ہیں کہ ان کے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ وہ جب آنکھ سے دیکھتا ہے اور کان سے سنتا ہے تو اس کے اندر ایک ایسا پر ارتعاش جذ بہ (thrill) پیدا ہوتا ہے جس کا اظہار لفظوں میں کیا جانا ممکن نہیں۔ وہ جب اپنے دماغ کو دیکھتا ہے اور اس کو استعمال کرتا ہے تو اس نا قابل بیان نعمت کے اعتراف میں اس کا سینہ جذبات سے بھر جاتا ہے۔ اسی قسم کی قلبی کیفیات کے لفظی اظہار کا نام حمد ہے۔ حمد ایک ایسا تجربہ ہے جو ہر آدمی کے ساتھ اور ہر وقت جاری رہتا ہے۔ وہ رات کو تھک کر بستر پر سو جاتا ہے اور صبح کو تازہ دم ہو کر اٹھتا ہے تو وہ خدا کی حمد میں سرشار ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ یہ در اصل خدا ہی تھا جس نے رات کے وقت اس پر نیند طاری کی اور صبح کے وقت اس کو جگا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page