خاندانی زندگی
Urdu book, p. 250
By Maulana Wahiduddin Khan
چاہا تم کو تر تیب دے دیا۔ ہر گز نہیں۔ بلکہ تم انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہو۔ حالااں کہ تم پر نگہبان مقرر ہیں۔ معزز لکھنے والے۔ وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو۔ بے شک نیک لوگ عیش میں ہوں گے۔ اور بے شک گنہ گار دوزخ میں۔ انصاف کے دن وہ اس میں ڈالے جائیں گے۔ وہ اس سے جدا ہونے والے نہیں۔ اور تم کو کیا خبر کہ انصاف کا دن کیا ہے۔ اس دن کوئی جان کسی دوسری جان کے لئے کچھ نہ کر سکے گی۔ اور معاملہ اس دن اللہ ہی کے اختیار میں ہو گا۔ (الانفطار ۱۹-۶) انسان کی تخلیق انتہائی استثنائی طور پر ایک بے حد موزوں تخلیق ہے۔ جسمانی بناوٹ اور ذہنی صلاحیت دونوں کے اعتبار سے انسان ایک انوکھا وجود ہے۔ اس قسم کی نادر تخلیق بیک وقت دو باتوں کا ثبوت دے رہی ہے۔ ایک طرف یہ کہ انسان کا خالق ایک بے حد عظیم ہستی ہے۔ خالق اگر بے حد عظیم نہ ہو تو وہ انسان جیسی مخلوق کو وجود میں نہ لاسکے۔ اسی کے ساتھ دوسری اہم حقیقت یہ ہے کہ انسان جیسی ایک مخلوق کی پیدائش بے مقصد نہیں ہو سکتی۔ یقینی طور پر اس تخلیق کا ایک بامعنی مقصد ہے۔ اور وہ بامعنی مقصد یہی ہے کہ جو لوگ خالق کے منشاء کے مطابق زندگی گزاریں وہ خالق کی طرف سے اعلیٰ انعام پائیں۔ اور جو لوگ خالق سے سرکشی کریں، وہ اپنے عمل کے مطابق اس کی سزا سے دوچار ہوں۔ 83-225 انصاف کا طریقہ خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والے کی۔ جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں۔ اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کر دیں۔ کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ وہ اٹھائے جانے والے ہیں۔ ایک بڑے دن کے لئے جس دن تمام لوگ خدا وند عالم کے سامنے کھڑے ہوں گے (التطفیف ۱-۶) دنیا میں آدمی ہر لمحہ اس طرح زندگی گزارتا ہے کہ کبھی وہ کسی سے لیتا ہے اور کبھی وہ کسی کو دیتا ہے۔ یہ لینا اور دینا صرف مالی معاملات میں نہیں ہوتا بلکہ وہ ہر معاملہ میں ہوتا ہے۔ کسی سے کچھ کہنا اور اس سے کچھ سننا، یہ بھی لینا اور دینا ہے۔ کسی کو کچھ دینا اور کسی سے کچھ پانا، یہ بھی لین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader