خاندانی زندگی
Urdu book, p. 251
By Maulana Wahiduddin Khan
دین ہے۔ کسی سے اپنے لئے امید رکھنا اور کسی کے ساتھ اس کی امید میں پورا اترنا یا نہ اترنا، یہ بھی ایک لین دین ہے۔ غرض ہر لمحہ اور ہر معاملہ میں آدمی کسی کو کچھ دینے والا ہوتا ہے اور کسی سے کچھ پانے والا۔ یہ اجتماعی زندگی کا لازمی پہلو ہے۔ کوئی اجتماعی زندگی اس لین دین سے خالی نہیں ہو سکتی۔ اس طرح کے معاملات میں آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ لینے اور دینے میں فرق نہ کرے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ خود تو دینے کے وقت دوسروں کو برادے اور دوسروں سے ہمیشہ اچھا لینا چاہے۔ اس قسم کی نابرابری یا بے انصافی خدا کی شریعت میں حرام ہے۔ اجتماعی زندگی میں اس طرح ناپ اور تول میں فرق کرنے والے خدا کی سخت پکڑ میں آجائیں گے۔ خدا کی رحمت صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو خود بھی دوسروں کے لئے اسی طرح باانصاف ثابت ہوں جس طرح وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ ان کے ساتھ انصاف کریں۔ 84-226 انسان کا معاملہ اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف جا رہا ہے۔ پھر اس سے ملنے والا ہے۔ لو جس کو اس کا اعمال نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا، اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔ اور وہ اپنے لوگوں کے پاس خوش خوش آئے گا۔ اور جس کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا، وہ موت کو پکارے گا، اور جہنم میں داخل ہوگا۔ وہ اپنے لوگوں میں بے غم رہتا تھا۔ اس نے خیال کیا تھا کہ اس کو لوٹنا نہیں ہے۔ کیوں نہیں، اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔ (الانشقاق ۶ - ۱۴) دنیا میں زندگی گزارنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہو ۔ جس آدمی کے اندر یہ سنجیدگی ہوگی، اس کی زندگی لازماً ذمہ دارانہ زندگی بن جائے گی۔ وہ اندیشہ کی نفسیات میں جیے گا۔ کیوں کہ اس کو یہ ڈر ہوگا کہ اگر وہ خدا کی رحمت سے محروم رہ گیا تو اس کے لئے ابدی عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس کے برعکس جو آدمی حقیقت کے بارہ میں سنجیدہ نہ ہو، وہ بے فکری کی زندگی گزارے گا۔ وہ کل کے انجام سے غافل ہو کر آج کی دلچسپیوں میں گم رہے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader