خاندانی زندگی
Urdu book, p. 253
By Maulana Wahiduddin Khan
ہونے والا کیا ہے، چمکتا ہوا تارہ۔ کوئی جان ایسی نہیں جس کے اوپر نگہبان نہ ہو (الطارق ا۔۴) انسان کے اوپر ستارہ کا چمکنا تمثیل ربانی میں اس واقعہ کی یاد دہانی ہے کہ کوئی دیکھنے والا اس کو دیکھ رہا ہے۔ یہ دیکھنے والا انسان کے اعمال کو ریکارڈ کر رہا ہے۔ وہ موت کے بعد دوبارہ انسان کو پیدا کرے گا۔ اور اس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لے گا۔ یہ صرف امتحان کی مہلت ہے جو انسان کے درمیان اور اس وقت کے درمیان حد فاصل بنی ہوئی ہے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اس کا وہ انجام سامنے آجائے گا جس سے آج وہ بظاہر بہت دور نظر آتا ہے۔ 87-229 فلاح انسانیت کامیاب ہوا جس نے اپنے کو پاک کیا۔ اور اپنے رب کا نام لیا۔ پھر نماز پڑھی۔ بلکہ تم دنیوی زندگی کو مقدم رکھتے ہو۔ اور آخرت بہتر ہے اور پائیدار ہے۔ یہی اگلے صحیفوں میں بھی ہے، موسیٰ اور ابراہیم کے صحیفوں میں۔ (الاعلیٰ ۱۳ تا ۱۹) خدا کا دین ہمیشہ سے ایک رہا ہے۔ خدا نے اپنا جو دین قرآن میں ظاہر فرمایا ہے، وہی پچھلے پیغمبروں کے دور میں بھی تھا۔ پیغمبر اسلام اور پچھلے پیغمبروں کے درمیان شریعت اور منہاج (المائدہ (۴۸) کے اعتبار سے جو فرق رہا ہے وہ اضافی ہے نہ کہ حقیقی۔ اس قسم کے اضافی فرق خود ایک ہی پیغمبر کے مختلف احوال میں پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر پیغمبر اسلام کے مکی اور مدنی دور میں صلاۃ اور صوم کے احکام میں فرق ہوتا، وغیرہ۔ خدا کا اصل دین تمام پیغمبروں پر نازل کیا گیا اس کے مطابق فلاح انسانی کا اصل انحصار اس پر ہے کہ آدمی اپنا تزکیہ کر کے اپنے آپ کو خدا کا مطلوب بندہ بنائے۔ یہ خود تعمیری کی ایک مہم ہے جس میں وہی لوگ کامیاب ہو سکتے ہیں جو موجودہ دنیا کے وقتی مفادات میں نہ الجھیں اور آئندہ آنے والی آخرت کی دنیا کو اپنی ترجیح بنائیں۔ جو لوگ ایسا کریں، ان کے اندر ایک عظیم روحانی انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ ان کا سینہ خدا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader