Urdu book · مطالعہ قرآن

خاندانی زندگی

Urdu book, p. 255

By Maulana Wahiduddin Khan

کو سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔ اور تم مال سے بہت زیادہ محبت رکھتے ہو۔ ہر گز نہیں، جب زمین کو توڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا۔ اور تمہارا رب آئے گا اور فرشتے آئیں گے قطار در قطار۔ اور اس دن جہنم لائی جائے گی۔ اس دن انسان کو سمجھ آئے گی۔ اور اب سمجھنے کا موقع کہاں۔ وہ کہے گا، کاش میں اپنی زندگی میں کچھ آگے بھیجتا۔ پس اس دن نہ تو خدا کے برابر کوئی عذاب دے گا۔ اور نہ اس کے باندھنے کے برابر کوئی باندھدھے گا۔ اے نفس مطمئن، چل اپنے رب کی طرف، تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔ پھر شامل ہو میرے بندوں میں اور داخل ہو میری جنت میں (الفجر ۱۵۔۳۰) دنیا میں آدمی کو دو قسم کے احوال پیش آتے ہیں۔ کبھی پانا اور کبھی محروم ہو جاتا۔ یہ دونوں حالتیں امتحان کے لئے ہیں۔ وہ اس جانچ کے لئے ہیں کہ آدمی کس حالت میں کون سا عمل پیش کرتا ہے۔ بس نفس کا معاملہ یہ ہو کہ جب اس کو کچھ ملے تو وہ فخر کرنے لگے اور جب اس سے چھینا جائے تو وہ منفی نفسیات میں مبتلا ہو جائے، ایسا شخص امتحان میں ناکام ہو گیا۔ دوسرا انسان وہ ہے کہ جب اس کو ملا تو اس نے خدا کے سامنے جھک کر اس کا شکر ادا کیا۔ اور جھکا۔ اگر تو وہ بار بار جھکا تو خدا کے آگے گر جھک کر اس نے عجز کا اقرار کیا۔ یہی وہ انسان تھا۔ جب اس نے پینا لیا تو دوبارہ اس لئے خدا سے اپنے بھیک ہر اپنے جزرہ اسرار لیا ۔ یہی دوسرا انسان ہے جس کو یہاں نفس مطمئنہ کہا گیا ہے، یعنی مطمئن روح ۔ نفس مطمئن کا مقام اس شخص کو ملتا ہے جو کائنات میں خدا کی نشانیوں پر غور کرے۔ جو تاریخ کے واقعات سے عبرت و نصیحت کی غذا لے سکے ۔ جو اس بات کا ثبوت دے کہ جب اس کی ذات میں اور حق میں ٹکراؤ ہو گا تو وہ اپنی ذات کو نظر انداز کر دے گا اور حق کو قبول کر لے گا۔ جو ایک بار حق کو مان لینے کے بعد پھر اس کو کبھی نہ چھوڑے، خواہ اس کی خاطر اسے اپنے آپ کو کچلنا پڑے ، اور خواہ اس کے نتیجہ میں اس کی زندگی ویران ہو جائے ۔ 90-232 بلند کرداری نہیں، میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔ اور تم اس میں مقیم ہو۔ اور قسم ہے باپ کی اور اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page