Urdu book · مطالعہ قرآن

خاندانی زندگی

Urdu book, p. 256

By Maulana Wahiduddin Khan

کی اولاد کی۔ ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کسی کا زور نہیں۔ کہتا ہے کہ میں نے بہت سامال خرچ کر دیا۔ کیا وہ سمجھتا ہے کہ کسی نے اس کو نہیں دیکھا۔ کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں۔ اور ایک زبان اور دو ہونٹ۔ اور ہم نے اس کو دونوں راستے بتادئے۔ پھر وہ گھاٹی پر نہیں چڑھا۔ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ گھاٹی۔ گردن کو چھڑانا۔ یا بھوک کے زمانہ میں کھلانا۔ قرابت دار یتیم کو، یا خاک نشین محتاج کو۔ پھر وہ ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو صبر کی اور ہمدردی کی نصیحت کی۔ یہی لوگ نصیب والے ہیں۔ اور جو ہماری آیتوں کے منکر ہوئے وہ بد بختی والے ہیں۔ ان پر آگ چھائی ہوگی۔ (البلد ۱۔ ۲۰) انسان کسی حال میں اپنے آپ کو مشقتوں سے آزاد نہیں کر پاتا۔ اس سے معلو ہوا کہ انسان کسی بالاتر قوت کے ماتحت ہے۔ اسی طرح انسان کی آنکھیں بتاتی ہیں کہ کوئی برتر آنکھ بھی ہے جو اس کو دیکھ رہی ہے۔ انسان کی قوت نطق اشارہ کرتی ہے کہ اس کے اوپر بھی ایک صاحب نطق ہے جس نے اس کے اوپر اپنے نطق کا اظہار کیا۔ اور اس کو ہدایت کا راستہ دکھایا۔ آدمی اگر حقیقی معنوں میں اپنے آپ کو پہچان لے تو یقیناً وہ خدا کو بھی پہچان لے گا۔ خدا نے انسان کو دو قسم کی بلند كرداری کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایک انسان کے ساتھ منصفانہ سلوک اور انسان کی ضرورتوں میں اس کے کام آنا۔ دوسری چیز اللہ پر ایمان و یقین ہے۔ یہ ایمان و یقین جب آدمی کے اندر گہرائی کے ساتھ اترتا ہے تو وہ آدمی کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ متعدی بن جاتا ہے۔ ایسا انسان دوسروں کو بھی اسی حق پر لانے کی کوشش کرنے لگتا ہے جس کو وہ خود اختیار کئے ہوئے ہے۔ 91-233 سہ گانہ رہنمائی قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ چڑھنے کی۔ اور چاند کی جب کہ وہ سورج کے پیچھے آئے۔ اور دن کی جب کہ وہ اس کو روشن کر دے۔ اور رات کی جب کہ وہ اس کو چھپالے۔ اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page