خاندانی زندگی
Urdu book, p. 258
By Maulana Wahiduddin Khan
واضح طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کائنات میں مقصدیت ہے۔ ایسی با مقصد کائنات میں یہ نا ممکن ہے کہ یہاں اچھا عمل اور برا عمل دونوں بالکل یکساں انجام پر ختم ہو۔ کائنات اپنے خالق کا جو تعارف کرارہی ہے اس سے یہ بات مطابقت نہیں رکھتی۔ اللہ کا تعلق اپنے بندوں سے صرف حاکم کا نہیں، بلکہ مددگار کا بھی ہے۔ وہ اپنے ان بندوں کا راستہ ہموار کرتا ہے جو اس کی طرف چلنا چاہیں۔ اس کے بر عکس جو لوگ سر کشی کا راستہ اختیار کریں وہ انھیں سرکشی کے راستہ پر دوڑنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ 93-235 خدا کی مدد کم ہے روز روشن کی۔ اور رات کی جب وہ چھا جائے۔ تمہارے رب نے کم تو نہیں چھوڑا، اور نہ وہ تم سے بیزار ہوا۔ اور یقیناً آخرت تمہارے لئے دنیا سے بہتر ہے۔ اور عنقریب اللہ تجھ کو دے گا۔ پھر تو راضی ہو جائے گا۔ کیا اللہ نے تم کو یتیم نہیں پایا پھر ٹھکانا دیا۔ اور تم کو متلاشی پایا تو راہ دکھائی۔ اور تم کو نادار پایا تو تم کو غنی کر دیا۔ پس تم یتیم پر سختی نہ کرو۔ اور تم سائل کو نہ جھڑکو۔ اور تم اپنے رب کی نعمت بیان کرو۔ (الضحی ۱-۱۱) اس دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں دن بھی آتا ہے اور رات بھی۔ دونوں کے ملنے سے یہاں کا نظام مکمل ہوتا ہے۔ اس طرح انسان کے ارتقاء کے لئے بھی سختی اور نرمی دونوں کا پیش آنا ضروری ہے۔ اس دنیا میں ایک بندہ خدا کے ساتھ سختی کے حالات اس لئے پیش آتے ہیں کہ اس کی چھپی ہوئی صلاحیتیں بیدار ہوں۔ اس کی راہ میں رکاوٹیں اس لئے ڈالی جاتی ہیں تاکہ اس کا مستقبل اس کے حال سے زیادہ بہتر ہو سکے۔ رسول اللہ ﷺ یتیم پیدا ہوئے۔ پھر اللہ نے آپ کو بہترین سر پرست عطا فرمایا۔ آپ تلاش حق میں سرگرداں تھے۔ پھر اللہ نے آپ کے لئے حق کا دروازہ کھول دیا۔ آپ بظاہر بے مال تھے، پھر اللہ نے آپ کو آپ کی اہلیہ (خدیجہ) کے ذریعہ صاحب مال بنا دیا۔ یہ صرف ایک انفرادی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader