حمد خداوندی
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
دیا۔ اس کے بعد جب وہ زمین پر چلتا ہے تو یہ چلنا اس کو ایک معجزاتی حد تک قابل شکر واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ کیوں کہ زمین پر انسان کا چلنا کوئی سادہ بات نہیں، بے شمار فوق الطبیعی اسباب یکجا ہوتے ہیں، اس کے بعد یہ ممکن ہوتا ہے کہ انسان جیسی ایک مخلوق زمین پر چلے۔ مثال کے طور پر اگر زمین کا سائز موجودہ سائز کا دگنا ہو تو اس کی بڑھی ہوئی کشش کی بنا پر انسان کا جسم اتنا زیادہ وزنی ہو جائے گا کہ زمین پر چلنا اس کو ایسا محسوس ہوگا کہ جیسے وہ اپنے سر پر کئی ٹن کا بوجھ لادے ہوئے ہے۔ اسی طرح اگر زمین کا سائز موجودہ سائز کے مقابلے میں آدھا ہو جائے تو اس کی کشش گھٹ جانے کی وجہ سے انسان کا جسم اتنا زیادہ ہلکا ہو جائے گا کہ وہ زمین پر لڑکھڑانے لگے ، اس کے لئے یہ نا ممکن ہو جائے گا کہ وہ قدم جما کر زمین پر چل سکے۔ اسی طرح آدمی جب سورج کی روشنی کو دیکھتا ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تو وہ سورج کی تخلیق اور اس کے نظام میں پوشیدہ ان گنت حکمتوں کو سوچ کر ہیبت زدہ ہو جاتا ہے۔ سورج کی شکل میں وہ ایسی خدائی نعمت کو دیکھنے لگتا ہے جس کے اظہار سے اس کی زبان عاجز ہے۔ سورج کی شکل میں خدا نے انسان کو جو نعمت دی ہے اس کے انگنت پہلو ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کے مقابلے میں سورج کا فاصلہ بے حد موزوں ہے۔ اگر یہ فاصلہ کم ہو کر نصف ہو جائے تو زمین پر گرمی اتنی زیادہ بڑھ جائے گی کہ اس کی گرمی میں انسان اس طرح جھلس اٹھے گا جیسے جلتے ہوئے توے پر ایک کا غذرکھ دیا جائے۔ اس کے بر عکس اگر زمین سے سورج کا فاصلہ موجودہ فاصلہ کا دگنا ہو جائے تو زمین کی سطح پر اتنی ٹھنڈک ہوگی کہ انسان اس کے اندر ٹھٹھر کر رہ جائے۔ اسی طرح آدمی جب ہوا میں سانس لیتا ہے تو وہ اس کی حکمتوں کو سوچ کر حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ کس طرح یہ ممکن ہوا کہ مختلف گیسوں کا متناسب مجموعہ ہوا کی شکل اختیار کرے۔ اس میں مخصوص تناسب کے ساتھ آکسیجن موجود ہو اور اس کے ساتھ درختوں کے ذریعہ آکسیجن کی سپلائی مسلسل جاری ہو۔ اور پھر یہ ہوا آکسیجن کو لے کر ساری دنیا میں اس کی سپلائی کرے تاکہ کوئی انسان جہاں بھی ہو وہاں سانس لے کر زندہ رہ سکے۔ اسی کے ساتھ انسانی جسم کے اندر یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader