Urdu book · مطالعہ قرآن

خاندانی زندگی

Urdu book, p. 261

By Maulana Wahiduddin Khan

شب قدر ہم نے اس کو اتارا ہے شب قدر میں۔ اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کی اجازت سے اترتے ہیں ہر حکم لے کر۔ وہ رات سراسر سلامتی ہے، صبح نکلنے تک (القدر ۱۔۵) سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں سالانہ فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال کے لئے مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لئے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اسی قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات نورین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کئے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہو جاتی ہے جو ان کے دینی عمل کی قدر و قیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھادیتی ہے۔ شب قدر سے فیض پانے کا معاملہ دن اور تاریخ کی نسبت سے نہیں ہے۔ بلکہ اس کا انحصار ذاتی استعداد پر ہے۔ استعداد کے بغیر کوئی شخص شب قدر کی رحمتوں کو نہیں پا سکتا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے سورج کے نکلنے کے بعد اس کی روشنی سے صرف آنکھ والے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ بے آنکھ والے لوگ روشن سورج کے طلوع ہونے کے بعد بھی اس کے فائدہ سے محروم رہیں گے۔ دین قیم وہ متفرق نہیں ہوئے جن کو کتاب دی گئی تھی مگر واضح دلیل آجانے کے بعد۔ حالاں کہ ان کو یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے لئے دین کو خالص کر دیں، یکسو ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، اور یہی درست دین ہے۔ (البینہ ۴-۵)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page