خاندانی زندگی
Urdu book, p. 262
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کا دین قیم یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کی عبادت کرے۔ وہ دل سے اس کا چاہنے والا بن جائے۔ وہ نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے۔ یہی خدا کی طرف سے آنے والا اصل دین ہے۔ سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اس دین قیم کو اختیار کریں اور سب سے برے لوگ وہ ہیں جو اس دین قیم کو اختیار نہ کریں یا اس کے سوا کوئی اور دین وضع کریں اور اس خود ساختہ دین کو دین قیم کا نام دے دیں۔ 99-241 قیامت کا زلزلہ جب زمین شدت سے ہلا دی جائے گی۔ اور زمین اپنا بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی۔ اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوا۔ اس دن وہ اپنے حالات بیان کرے گی۔ کیوں کہ تمہارے رب کا اس کو یہی حکم ہوگا۔ اس دن لوگ الگ الگ نکلیں گے تاکہ ان کے اعمال انہیں دکھائے جائیں۔ پس جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس شخص نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ (الزلزال ۸-۱) قیامت کا زلزلہ مدت امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خدا کی دنیا بظاہر خاموش ہے مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی بولنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کئے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرادیتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدا کی اسٹوڈیو ہے اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہو رہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرادے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔ 242-100 ناشکری نہیں قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں۔ پھر ٹاپ مار کر چنگاری نکالنے والے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader