خاندانی زندگی
Urdu book, p. 263
By Maulana Wahiduddin Khan
پھر صبح کے وقت چھاپا مارنے والے۔ پھر اس میں غبار اڑانے والے۔ پھر اس وقت فوج میں گھس جانے والے۔ بے شک انسان اپنے رب کا نا شکر اہے۔ اور وہ خود اس پر گواہ ہے۔ اور وہ مال کی محبت میں بہت شدید ہے۔ کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب وہ قبروں سے نکالا جائے گا۔ اور نکالا جائے گا جو کچھ دلوں میں ہے۔ بے شک اس دن ان کا رب ان سے خوب باخبر ہوگا۔ (العادیت ۱-۱۱) گھوڑا ایک نہایت وفادار جانور ہے۔ وہ اپنے مالک کے لئے اپنے آپ کو آخری حد تک قربان کر دیتا ہے۔ حتیٰ کہ جنگ کے میدان میں بھی وہ اپنے مالک کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ یہ گویا ایک علامتی مثال ہے جو انسان کو بتاتی ہے کہ اسے کیسا بننا چاہئے۔ انسان کو بھی اپنے رب کا اسی طرح وفادار بنانا چاہئے جیسا کہ گھوڑا انسان کا وفادار ہوتا ہے۔ مگر عملاً ایسا نہیں ۔ اس دنیا میں جانور اپنے مالک کا شکر گزار ہے مگر انسان اپنے رب کا شکر گزار نہیں۔ یہاں جانور اپنے مالک کا حق پہچانتا ہے مگر انسان اپنے رب کا حق نہیں پہچانتا۔ یہاں جانور اپنے مالک کی ۔اطاعت میں سرگرم ہے۔ مرا انسان اپنے رب کی اطاعت میں سرگرم ہیں۔ انسان اسی جانور کی قدر کرتا ہے جو اس کا وفادار ہو۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ وہ اس راز کو نہ جانے کہ خدا کے یہاں وہی انسان قابل قدر ٹھہرے گا جو خدا کی نظر میں اس کا وفادار ثابت ہو۔ مگر مال کی محبت اس کو اندھا بنا دیتی ہے۔ وہ ایک ایسی حقیقت کو جاننے سے محروم رہتا ہے جس کو وہ خود اپنے قریبی حالات میں تجربہ کر چکا ہے۔ 105-243 عمل کا وزن کھڑ کھڑانے والی۔ کیا ہے کھڑ کھڑانے والی۔ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ کھڑ کھڑانے والی۔ جس دن لوگ پتنگوں کی طرح بکھرے ہوئے ہوں گے۔ اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔ پھر جس شخص کا پلّہ بھاری ہو گا وہ دل پسند آرام میں ہو گا۔ اور جس شخص کا پلّہ ہلکا ہو گا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader