Urdu book · مطالعہ قرآن

خاندانی زندگی

Urdu book, p. 264

By Maulana Wahiduddin Khan

تو اس کا ٹھکانا گڑھاہے ۔ اور تم کیا جانو کہ وہ کیا ہے ، بھڑکتی ہوئی آگ (القارعة ا۱ - ۱۱) قیامت کا بھونچال ہر چیز کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے گا۔ لوگوں کے تمام استحکامات درہم برہم ہو جائیں گے۔ اس کے بعد ایک نیا عالم بنے گا جہاں سارا وزن صرف حق میں ہوگا، بقیہ تمام چیزیں اپنا وزن کھودیں گے۔ موجودہ دنیا میں انسانوں کی پسند کا رواج ہے۔ یہاں انسانوں کی نسبت سے چیزوں کا وزن قائم ہوتا ہے۔ آخرت کی دنیا خدا کی دنیا ہے۔ وہاں خدا کی پسند کے اعتبار سے ایک چیز وزن دار ہو گی اور دوسری چیز بالکل بے وزن ہو کر رہ جائے گی۔ دنیا میں اعمال کا وزن ظاہر کے اعتبار سے ہوتا ہے، آخرت میں اعمال کا وزن ان کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے ہوگا۔ جس آدمی کے عمل میں جتنا زیادہ اخلاص ہوگا اتنا ہی زیادہ وہ وزنی قرار پائے گا۔ جو عمل اخلاص سے خالی ہو وہ آخرت میں بالکل بے وزن ہو کر رہ جائے گا۔ خواہ موجودہ دنیا میں ظاہر بینوں کو وہ کتنا ہی زیادہ باوزن دکھائی دیتا رہا ہو۔ 102-244 دنیا کی دوڑ بہتات کی حرص نے تم کو غفلت میں رکھا۔ یہاں تک کہ قبروں میں جاپہنچے۔ ہرگز نہیں، تم بہت جلد جان لو گے۔ پھر ہرگز نہیں، تم بہت جلد جان لو گے۔ ہرگز نہیں۔ اگر تم یقین کے ساتھ جانتے کہ تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے۔ پھر تم اس کو یقین کی آنکھ سے دیکھو گے۔ پھر اس دن تم سے نعمتوں کے بارہ میں پو چھو ہو گی۔ (التکاثر ۱۔ ۸) آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مال کمائے۔ وہ زیادہ سے زیادہ سازو سامان اپنے پاس جمع کرے ۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کی موت آ جاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔ دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔ بلاشبہ اس سے بڑی بھول اور کوئی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page