Urdu book · مطالعہ قرآن

خاندانی زندگی

Urdu book, p. 265

By Maulana Wahiduddin Khan

زمانہ گواہ ہے قسم ہے زمانہ کی۔ بے شک انسان گھاٹے میں ہے۔ مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیا اور ایک دوسرے کو حق کی نصحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصحت کی (العصر - ۲) آدمی ہر لمحہ اپنی موت کی طرف جارہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اگر اپنی مہلت عمر کو استعمال نہ کرے تو آخر کار اس کے حصہ میں جو چیز آئے گی وہ صرف ہلاکت ہے۔ کامیاب ہونے کے لئے آدمی کو خود عمل کرنا ہے۔ جب کہ ناکامی کے لئے کسی عمل کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے آپ اس کی طرف بھاگی چلی آرہی ہے۔ ایک بزرگ نے کہا کہ سورۂ عصر کا مطلب میں نے ایک برف بیچنے والے سے سمجھا جو بازار میں آواز لگا رہا تھا کہ لوگو، اس شخص پر رحم کرو جس کا اثاثہ گھل رہا ہے۔ لوگو، اس شخص پر رحم کرو جس کا اثاثہ گھل رہا ہے۔ اس پکار کو سن کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ جس طرح برف پگھل کر کم ہوتی رہتی ہے اسی طرح انسان کو ملی ہوئی عمر بھی تیزی سے گزر رہی ہے۔ عمر کا موقع اگر بے عملی یا برے کاموں میں کھو دیا جائے تو یہی انسان کا گھاٹا ہے۔ (تفسیر کبیر امام رازی) اپنے وقت کو صحیح استعمال کرنے والا وہ ہے جو موجودہ دنیا میں تین باتوں کا ثبوت دے۔ ایک، ایمان، یعنی حقیقت کا شعور اور اس کا اعتراف۔ دوسرے عمل صالح، یعنی وہی کرنا جو کرنا چاہئے اور وہ نہ کرنا جو نہیں کرنا چاہئے۔ تیسرے حق و صبر کی تلقین۔ یعنی حقیقت کا اتنا گہر ایدارک کہ آدمی اس کا داعی اور مبلغ بن جائے۔ 104-246 تباہی کا راستہ تباہی ہے ہر طعنہ دینے والے، عیب نکالنے والے کی۔ جس نے مال کو سمیٹا اور گن گن کر رکھا۔ وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا۔ ہرگز نہیں۔ وہ پھینکا جائے گا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page