Urdu book · مطالعہ قرآن

خاندانی زندگی

Urdu book, p. 266

By Maulana Wahiduddin Khan

روندنے والی جگہ میں اور تم کیا جانو کہ وہ روندنے والی جگہ کیا ہے۔ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ جو دلوں تک پہنچے گی۔ وہ ان پر بند کر دی جائے گی، اونچے اونچے ستونوں میں (الہمزہ ١-٩) کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کر سکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے۔ اس کو بدنام کرے۔ اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لئے کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے ۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی بیل ان کے لئے نہ ہوئی۔ 105-247 ہاتھی والے کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا۔ کیا اس نے ان کی تدبیر کو اکارت نہیں کر دیا۔ اور ان پر چڑیاں بھیجیں جھنڈ کی جھنڈ۔ جو ان پر پتھر کی کنکریاں پھینکتے تھے۔ پھر اللہ نے ان کو کھائے ہوئے بھس کی طرح کر دیا۔ (الفیل ا-۵) ابرہہ چھٹی صدی عیسوی میں جنوبی عرب کا ایک مسیحی حبشی حکمراں تھا۔ اس نے مذہبی جنون کے تحت ۵۷۰ء میں مکہ پر حملہ کیا تا کہ کعبہ کو ڈھاکر ختم کر دے۔ اس کے ساتھ ساٹھ ہزار آدمیوں کا لشکر تھا جس میں تقریباً ایک درجن ہاتھی بھی شامل تھے۔ اسی بنا پر وہ لوگ اصحاب فیل (ہاتھی والے) کہے گئے۔ جب یہ لوگ مکہ کے قریب پہنچے تو ہاتھیوں نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ اسی کے ساتھ پرندوں کے جھنڈ آئے جن کی چونچوں اور پنجوں میں کنکریاں تھیں۔ انہوں نے یہ کنکریاں ابرہہ کے لشکر پر گرائیں تو سارا لشکر عجیب و غریب قسم کی بیماری میں مبتلا ہو گیا اور گھبرا کر واپس بھاگا۔ مگر ابرہہ سمیت اس کے بیشتر افراد راستہ ہی میں ہلاک ہو گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page