Urdu book · مطالعہ قرآن

خاندانی زندگی

Urdu book, p. 267

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ واقعہ عین اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہ ﷺ کی پیدائش ہوئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مظاہرہ تھا کہ پیغمبر اسلام کو خصوصی غلبہ کی نسبت دی گئی ہے۔ آپ کے ساتھ یا آپ کے دین کے ساتھ جو بھی ٹکرائے گا وہ لازماً مغلوب ہو کر رہ جائے گا۔ 106-248 قریش کی مثال اس واسطے کہ قریش مانوس ہوئے، جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس۔ تو ان کو چاہئے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔ جس نے ان کو بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے ان کو امن دیا (قریش ۱-۴) قریش ایک تجارتی قوم تھے۔ گرمی کے زمانہ میں ان کے تجارتی قافلے شام اور فلسطین کی طرف جاتے تھے۔ اور سردیوں کے زمانہ میں وہ لمبے تجارتی سفر کرتے تھے۔ انہیں تجار لوں پر ان کی معاشیات کا انحصار تھا۔ قدیم زمانہ میں جب کہ تاجروں کو لوٹنا عام تھا، قریش کے قافلے راستہ میں لوٹے نہیں جاتے تھے۔ اس کی وجہ کعبہ سے ان کا تعلق تھا۔ قریش کعبہ کے خادم اور متولی تھے اور لوگوں کے ذہنوں پر عربوں کے کعبہ کا بہت زیادہ احترام تھا، اس لئے وہ کعبہ کے خادموں اور اور لوگوں کے دلوں پر چوں کہ کعبہ کا بہت زیادہ احترام تھا اس لیے وہ کعبہ کے خادموں اور متولیوں کا بھی احترام کرتے تھے اور اس بنا پر وہ ان کو لوٹتے نہ تھے۔ یہاں حکمت دعوت کے تحت قریش کو یہ واقعہ یاد دلاتے ہوئے انہیں اسلام کی طرف بلایا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ بڑی ناشکری کی بات ہوگی کہ تم بیت اللہ کے دنیوی فائدے تو حاصل کرو، اور اس سے وابستہ ہونے کی جو دینی ذمہ داریاں ہیں ان کو پورا نہ کرو۔ جو خدا انسان کو مادی فائدے پہنچاتا ہے اسی خدا کی اس کو عبادت بھی کرنا چاہئے۔ 107-249 آخرت سے بے خوفی کیا تم نے دیکھا اس شخص کو جو انصاف کے دن کو جھٹلاتا ہے۔ وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں ابھارتا۔ پس تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو اپنی نماز سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page