خاندانی زندگی
Urdu book, p. 268
By Maulana Wahiduddin Khan
غافل ہیں۔ وہ جو دکھلا وا کرتے ہیں۔ اور معمولی ضرورت کی چیزیں بھی نہیں دیتے۔ (الماعون ۷۔) آخرت کی پکڑ کا یقین آدمی کو نیک عمل بناتا ہے۔ جس آدمی کے اندر آخرت کی پکڑ کا یقین نہ رہے وہ نیکی کی ہر بات سے خالی رہے گا۔ وہ اللہ کی عبادت گزاری سے غافل ہو جائے گا۔ وہ بے زور آدمی کو دھکا دینے میں بھی نہیں شرمائے گا۔ وہ غریبوں کے حقوق ادا کرنے کی ضرورت نہیں سمجھے گا۔ حتیٰ کہ وہ لوگوں کو ایسی چیز دینے کا بھی روادار نہ ہوگا جس کے دینے میں اس کا کوئی حقیقی نقصان نہیں، خواہ وہ دیا سلائی کی ایک ڈبیہ ہو یا کسی کے حق میں خیر خواہی کا ایک بول۔ 108-250 بڑی کامیابی ہم نے تم کو کوثر دے دیا۔ پس اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ بے شک تمہارا دشمن ہی بے نام و نشان ہے (الکوثر۔ ۳) رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم بے آمیز حق لے کر اٹھے تھے۔ اس قسم کا کام موجودہ دنیا کا سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ چنانچہ آپ کو اس دعوت کی راہ میں اپنی ہر چیز کھودینی موجودہ دنیا کا سب سے زیادہ سہل کام ہے۔ چنانچہ آپ تو اس دعوتِ راہِ میل آپ ہر چیز ہو دیی پڑی۔ آپ اپنی قوم سے کٹ گئے۔ آپ کی معاشی زندگی برباد ہو گئی۔ آپ کی اولاد کا مستقبل تاریک ہو گیا۔ تھوڑے لوگوں کے سوا کسی نے آپ کا ساتھ نہیں دیا۔ مگر انہیں حوصلہ شکن حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر اتری کہ تم کو ہم نے کوثر (خیر کثیر) دے دیا۔ یعنی ہر قسم کی اعلیٰ ترین کامیابی۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی بعد کے سالوں میں کامل طور پر پوری ہوئی۔ یہی وعدہ درجہ بدرجہ پیغمبر اسلام کے امتیوں سے بھی ہے۔ ان کے لئے بھی ”خیر کثیر“ ہے۔ بشر طیکہ وہ اس خالص دین کو لے کر اٹھیں جس کو پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب لے کر اٹھے تھے۔ اس خیر کثیر کا تعلق دنیا سے لے کر آخرت تک ہے، وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ ایک صالح مشن اگر اپنے ابتدائی مرحلہ میں کسمپرسی کی حالت میں ہو تو اس سے یہ گمان نہیں کرنا چاہئے کہ وہ ہمیشہ اسی حال میں رہے گا۔ صالح مشن کو ہمیشہ اللہ کی تائید ملتی ہے۔ آخر کار وہ کامیاب ہو کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader