خاندانی زندگی
Urdu book, p. 269
By Maulana Wahiduddin Khan
رہتا ہے، خواہ اپنے ابتدائی دور میں وہ بظاہر ناکام نظر آتا ہو۔ 109-251 تکمیل دعوت کہو کہ اے منکرو، میں ان کی عبادت نہیں کروں گا جن کی عبادت تم کرتے ہو۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ اور میں ان کی عبادت کرنے والا نہیں جن کی عبادت تم نے کی ہے۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین (الکافرون ١-٦) یہ سورہ مکہ کے آخری زمانہ میں اتری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء ایک عرصہ تک "اے میری قوم" کے لفظ سے لوگوں کو پکارتے رہے۔ مگر جب اتمام حجت کے باوجود انہوں نے نہ مانا تو ان کو ایھا الکافرون (اے انکار کرنے والو) کے لفظ سے خطاب کیا گیا۔ اس مرحلہ میں یہ فقرہ در اصل کلمہ برات ہے نہ کہ کلمہ دعوت۔ یہ دعوت کے اسلوب کو نہیں بتاتا بلکہ صرف اس آخری اعلان کو بتاتا ہے جو داعی تکمیل دعوت کے بعد کرتا ہے۔ میرے لئے میرا دین، تمہارے لئے تمہارا دین۔۔۔ یہ دوسروں کے دین کی تصدیق نہیں۔ یہ ایک طرف اپنے حق پر جمے رہنے کا آخری اظہار ہے۔ اور دوسری طرف وہ مخاطب کی اس حالت کا اعلان ہے کہ تم اب ضد کی اس آخری حد پر آگئے ہو جہاں سے کوئی شخص کبھی نہیں پلٹتا۔ خدا کی فتح جب اللہ کی مدد آجاۓ اور فتح۔ اور تم دیکھو گے کہ لوگ خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں فوج در فوج۔ تو اپنے رب کی تسبیح کرو اس کی حمد کے ساتھ اور اس سے بخشش مانگو، بے شک وہ معاف کرنے والا ہے (النصرا۔۳) اللہ کی وہ مدد جس کا نام فتح ہے، وہ ہمیشہ دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ لوگوں کا جوق در جوق دین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader