مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
نظام کہ وہ باہر سے آکسیجن کو لے اور اندر سے کاربن ڈائی آکسائڈ کو خارج کرے ـــــ اس قسم کی باتیں دہشت ناک حد تک عجیب ہیں۔ جب ایک آدمی ان کا واقعی احساس کرتا ہے تو اس کی زبان سے بے ساختہ طور پر حمد و شکر کا سیلاب جاری ہو جاتا ہے۔ اسی طرح انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کو پانی اور خوراک کی ضرورت ہے اور پھر وہ پاتا ہے کہ صاف و ستھر اپانی، طرح طرح کی صحت بخش غذائیں زمین پر وافر مقدار میں موجود ہیں۔ انسان کو اپنا جسم ڈھانکنے کے لئے کپڑے کی ضرورت ہے اور زمین پر ایسی چیزیں کثیر مقدار میں رکھی گئی ہیں جن میں تصرف کر کے وہ انھیں کپڑے کی صورت دے سکے۔ انسان کو اپنے تمدن کی تعمیر کے لئے بہت سی مادی چیزیں درکار ہیں۔ یہاں وہ پاتا ہے کہ زمین کے اندر مختلف قسم کی معدنیات کا ذخیرہ بہت بڑی مقدار میں پیشگی طور پر رکھ دیا گیا ہے جن کو استعمال کر کے وہ اپنے لئے شاندار تمدنی زندگی کی تعمیر کرے۔ اسی طرح انسان کو زندگی کی بقا اور ترقی کے لئے بے شمار چیزوں کی ضرورت ہے۔ یہ تمام چیزیں موجودہ دنیا میں اس حالت میں ذخیرہ کر دی گئی ہیں کہ انسان انھیں با آسانی دریافت کرلے اور انھیں بڑے پیمانہ پر استعمال کر سکے۔ ان میں وہ چیزیں بھی شامل ہیں جن کو انسان نے جان لیا ہے اور وہ چیزیں بھی جن کو انسان نے ابھی تک نہیں جانا ہے۔ یہی علم اور شعور وہ چیز ہے جس کا ادراک آدمی کے اندر وہ جذبات پیدا کرتا ہے جس کو قرآن میں حمد کہا گیا ہے۔ خدا کی نعمتوں کا یہ شعور آدمی کو خدا سے قریب کرتا ہے۔ وہ خدا کو یاد کرنے والا بن جاتا ہے۔ وہ غیب میں خدا کا اس طرح ادراک کرنے لگتا ہے جیسے کہ وہ اسے دیکھ رہا ہو۔ 2-003 کتاب لا ریب قرآن کی پہلی سورۃ الفاتحہ گویا کہ قرآن کا دیباچہ ہے۔ اس مختصر سورۃ کے فوراً بعد سورہ البقرہ ہے۔ اس سورہ کا پہلا جملہ یہ ہے: ذالك الكتب لا ريب فيه (البقره (۲) یعنی یہ کتاب ایسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader