شیطان کا فتنہ
Urdu book, p. 272
By Maulana Wahiduddin Khan
شیطان کا فتنہ کہو، میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی، لوگوں کے بادشاہ کی، لوگوں کے معبود کی، اس کے شر سے جو وسوسہ ڈالے اور چھپ جائے۔ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، جن میں سے اور انسان میں سے۔ (الناس ۱-۶) انسان ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس کو لازمی طور پر پناہ کی ضرورت ہے۔ یہ پناہ اس کو ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ خدا ہی تمام انسانوں کا رب ہے، وہی لوگوں کا بادشاہ ہے، وہی لوگوں کا معبود ہے۔ پھر اس کے سوا کون ہے جو شر اور فتنہ کے مقابلہ میں لوگوں کا سہارا بنے۔ سب سے زیادہ خطرناک فتنہ جس سے انسان کو خدا کی پناہ مانگنی چاہئے وہ شیطان ہے۔ وہ سب سے زیادہ خطرناک اس لئے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی اصل حیثیت کو چھپاتا ہے۔ اور پر فریب تدبیروں سے انسان کو بہکاتا ہے۔ اس لئے شیطان کے فتنوں سے وہی شخص بچ سکتا ہے۔ جو بہت زیادہ باہوش ہو۔ جس کو اللہ نے وہ سمجھ دی ہو جس کے ذریعہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کر سکے۔ وہ سمجھ سکے کہ کون سی بات حقیقی بات ہے اور کون سی بات وہ ہے جو حقیقی بات نہیں۔ یہ وسوسہ اندازی کرنے والے صرف معروف شیاطین ہی نہیں ہیں۔ انسانوں میں بھی ایسے شیطان نما لوگ ہیں جو مصنوعی روپ میں سامنے آتے ہیں اور پر فریب الفاظ کے ذریعہ آدمی کے ذہن کو پھیر کر اس کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیتے ہیں۔ فتنوں سے خدا کی پناہ مانگنا دو طرفہ عمل ہے۔ ایک طرف یہ خدا کی عنایت کو اپنے ساتھ شامل کرتا ہے۔ اور دوسری طرف اس کا مقصد یہ ہے کہ فتنوں کے مقابلہ میں اپنے شعور کو بیدار کیا جائے تاکہ آدمی زیادہ باہوش طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader