کتاب لا ریب
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ اس آیت میں الکتب سے مراد قرآن ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن قیامت تک کے لئے ہے۔ اس لئے اس قرآنی بیان کا تعلق ان تمام زمانوں سے ہے جو قیامت تک انسان کے اوپر گزریں گے۔ اس طرح یہ قرآنی بیان گویا کہ ایک ابدی چیلنج ہے۔ اس میں قرآن کی بابت اس یقینی مستقبل کا اعلان کیا گیا ہے کہ کبھی بھی کوئی فرد یا گروہ اس میں شک نہ ڈال سکے گا، یہ کتاب انسانی تاریخ کے آخری مرحلے تک ہر قسم کے شک و شبہہ سے پاک رہے گی۔ یہ استثنائی حد تک ایسا انوکھا کلام ہے جس کی نظیر کسی بھی دوسری مذہبی کتاب میں موجود نہیں ہے۔ مثال کے طور پر بائبل میں جن باتوں کو رسولوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے ان کے بارے میں اہل علم نے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ تاریخی طور پر ان باتوں کا انتساب مذکورہ رسولوں سے ثابت شدہ نہیں۔ اسی طرح ہندوازم کی مذہبی کتاب بھاگوت گیتا کے بارے میں اہل علم نے یہ شبہہ ظاہر کیا ہے کہ وہ فی الواقع میدانِ جنگ کا کلام ہے جو کرشن نے ارجن سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا۔ یا وہ بہت بعد کو رامائن میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح گوتم بدھ سے جس کلام کو منسوب کیا جاتا ہے اس کے بارے میں اہل علم کو یہ شک ہے کہ وہ موجودہ ریکارڈ کے مطابق پالی یا سنسکرت میں تھا یا کسی اور زبان میں، وغیرہ۔ مگر جہاں تک قرآن کا معاملہ ہے، وہ اس قسم کے شک سے مکمل طور پر پاک ہے۔ اس کے نزول کو چودہ سو سال ہو چکے ہیں اس کے باوجود آج تک کوئی صاحب علم اس میں اس شک کی گنجائش نہ پا سکا کہ یہ وہی عربی کلام ہے جس کو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں خدائی کلام کے طور پر پیش کیا تھا۔ آج بھی پورا قرآن اپنی اصل ابتدائی حیثیت میں ہے اور عین اسی زبان میں موجود ہے جیسا کہ وہ چودہ سو سال پہلے تھا۔ اسی طرح شک کے دوسرے جتنے پہلو ہیں، ان سب کے اعتبار سے قرآن اپنی غیر مشتبہ حیثیت کو مسلسل باقی رکھے ہوئے ہے۔ قرآن میں بہت سے ایسے حوالے ہیں جو انسانی علوم سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader