Urdu book · مطالعہ قرآن

کتاب لا ریب

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً حیاتیات، نباتات، ارضیات، فلکیات، معدنیات، معاشیات، اور تاریخ، وغیرہ۔ یہ علوم نزولِ قرآن کے وقت اپنی ابتدائی حالت میں تھے۔ بعد کو ان میں اضافہ ہوتا رہا یہاں تک کہ موجودہ زمانے میں یہ تمام علوم اتنا زیادہ ترقی کر گئے جو نزولِ قرآن کے زمانے میں نا قابلِ قیاس تھا۔ مگر یہ حیرت انگیز بات ہے کہ بعد کے زمانے کی علمی ترقیاں قرآن کے کسی بھی بیان کو مشکوک ثابت نہ کر سکیں۔ قرآن کا ہر بیان اپنی صداقت کو بدستور برقرار رکھے ہوئے ہے۔ مثال کے طور پر قرآن کی ایک آیت ہے: کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔ (الانبیاء ۳۰) قرآن کی اس آیت میں جس کائناتِی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ نزولِ قرآن کے وقت سراسر غیر معلوم تھی، حتیٰ کہ بعد کی صدیوں میں جب کہ قرآن کی تفسیریں لکھی گئیں تو ان تفسیروں میں بھی اس کی کوئی واضح تشریح نہ کی جاسکی۔ موجودہ زمانے میں علمی ترقی کے بعد اگر بالفرض یہ معلوم ہوتا کہ زمین و آسمان (ستارے اور سیارے) اب جس طرح لا محدود خلا میں پھیلے ہوئے ہیں اسی طرح وہ اپنی ابتدا سے ہیں تو کسی کو قرآن کے مذکورہ بیان پر شک کے اظہار کا موقع مل سکتا تھا۔ لیکن بعد کی علمی ترقیوں نے حیرت انگیز طور پر یہ ثابت کیا کہ زمین و آسمان ابتداء میں ایک سپر ایٹم کی صورت میں جڑے ہوئے تھے اس کے بعد اس کے اندر ایک دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ میں موجودہ پھیلتی ہوئی کائنات وجود میں آئی۔ یہی معاملہ علم انسانی کے تمام دوسرے شعبوں کا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن کے ایک تاریخی بیان کو لیجئے۔ قرآن میں حضرت موسیٰ کے ہم عصر فرعون کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جب وہ غرق ہونے لگا تو خدا نے اس سے کہا: الیوم ننجيك ببدنك لتكون لمن خلفك آية (یونس ۹۲) یعنی آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لئے نشانی بنے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ غرق شدہ فرعون کا جسم بدستور محفوظ ہے تاکہ وہ بعد والوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page