Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

لئے نشانی بنے۔ مگر نزولِ قرآن کے وقت یہ واقعہ سراسر غیر معلوم تھا۔ حتیٰ کہ صدیوں میں جب کہ قرآن کی تفسیریں کی گئیں، ان میں بھی مفسرین اس کی کوئی واضح تفسیر نہ کرسکے۔ اب اگر ماضی کی طرح بعد کے زمانہ میں بھی فرعونِ موسیٰ کا جسم غیر معلوم رہتا تو کسی کو یہ موقع مل سکتا تھا کہ وہ قرآن کے اس بیان پر شک ظاہر کرے۔ لیکن یہ حیرت انگیز بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں علم کی ترقی نے اس شک سے پردہ اٹھایا اور اس نے قرآن کے اس بیان کی صداقت ثابت کر دی۔ انیسویں صدی کے آخر میں ایک یورپین اسکالر نے مصر کی ایک قدیم عمارت سے مومیائی کی ہوئی ایک لاش نکالی۔ یہ لاش اب قاہرہ کے میوزیم میں شیشہ کے کیس میں رکھی ہوئی ہے۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں اس لاش پر مختلف قسم کی تحقیق کی گئی۔ اسی کے ساتھ جدید سائنسی طریقہ کے مطابق اس کی عمر معلوم کی گئی۔ یہاں تک کہ یہ ثابت ہو گیا کہ یہ لاش اسی فرعون کی ہے جو موسیٰ کے زمانہ میں اپنے لشکر کے ساتھ غرق ہوا تھا۔ اسی طرح جس پہلو سے بھی قرآن کا جائزہ لیا جائے وہ ایک ایسی کتاب ثابت ہوتا ہے جس میں کسی قسم کے شک و شبہہ کی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن کی پوری تاریخ غیر مشتبہ طور پر معلوم ہے۔ قرآن کا ہر اعلان اپنی کامل صداقت کو مسلسل برقرار رکھے ہوئے۔ تقریباً ڈیڑھ ہزار سال کی مدت گزرنے کے باوجود اب تک کسی کو یہ موقع نہیں ملا کہ وہ قرآن پر کسی اعتبار سے کوئی شک ظاہر کر سکے۔ 2-004 انسان کی تخلیق قرآن میں انسان کی تخلیق کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ ــــــــ اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔ اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے، اور اللہ نے سکھا دئے آدم کو سارے نام، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page