Urdu book · مطالعہ قرآن

انسان کی تخلیق

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہمیں بتایا۔ بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔ اللہ نے کہا اے آدم ان کو بتاؤ ان لوگوں کے نام۔ تو جب آدم نے بتائے ان کو ان لوگوں کے نام تو اللہ نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمانوں اور زمین کے بھید کو میں ہی جانتا ہوں۔ اور مجھ کو معلوم ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو۔ (البقرہ ۳۰۔ ۳۳) اللہ نے انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ اس بنا پر فرشتوں کو یہ اندیشہ تھا کہ انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے گا اور زمین کو فساد اور خونریزی سے بھر دے گا۔ تاریخ کا تجربہ ثابت کرتا ہے کہ انسان کے بارے میں فرشتوں کا یہ اندیشہ بالکل درست تھا۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ اللہ نے انسان کو کیوں پیدا کیا۔ اللہ کو اپنے بندوں سے جو چیز مطلوب ہے وہ فرشتوں کے الفاظ میں، اس کی تحمید و تقدیس ہے، اور ان گنت فرشتے ہر لمحہ یہ مطلوب کام ساری کائنات میں انجام دے رہے ہیں۔ ایسی حالت میں انسان جیسی سرکش مخلوق کو پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اصل یہ ہے کہ فرشتے جو تحمید و تقدیس کر رہے ہیں وہ مجبورانہ تحمید و تقدیس ہے، کیوں کہ وہ اس کے سوا کچھ اور کر ہی نہیں سکتے۔ اب اللہ نے یہ چاہا کہ وہ ایسی مخلوق پیدا کرے جو خود اپنے آزادانہ فیصلے کے تحت اپنے آپ کو اللہ کی اطاعت میں دے اور ذاتی اختیار کے تحت اللہ کی حمد و تقدیس کرے۔ فرشتوں کے شبہہ کو اللہ نے اس طرح رفع کیا کہ پوری نسل انسانی کو اپنی قدرت سے بیک وقت پیدا کیا (الاعراف ۱۷۲) اور اپنی خصوصی قدرت سے آدم کو ان سب سے متعارف کرایا اور پھر آدم سے کہا کہ ان کا تعارف کر کے فرشتوں کو بتاؤ کہ ان میں کیسے کیسے لوگ پیدا ہوں گے۔ اس تعارف کے بعد فرشتوں نے مانا کہ انسانوں میں اگر ابو جہل اور ابو لہب جیسے لوگ ہوں گے تو اسی کے ساتھ ان میں ابو بکر اور عمر جیسے لوگ بھی پیدا ہوں گے۔ اس تعارف کے بعد فرشتے مطمئن ہو گئے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ نہ صرف فرشتے بلکہ پوری وسیع کائنات اور اس میں پھیلی ہوئی بے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page