Urdu book · مطالعہ قرآن

انسان کی تخلیق

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

شمار مخلوقات سب کی سب ہر آن خدا کی حمد و تقدیس میں مشغول ہیں، جیسا کہ دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے۔ مگر یہ بے شمار چیزیں جو کچھ کر رہی ہیں وہ اپنے آزاد فیصلے کے تحت نہیں کر رہی ہیں۔ وہ اس لئے ایسا کر رہی ہیں کہ تقدیر الہی کے تحت ان کے لئے کچھ اور کرنا ممکن ہی نہیں۔ یہ صرف انسان ہے جس کو انتہائی استثنائی طور پر موت تک کے لئے اختیار کی آزادی دی گئی ہے۔ دوسری چیزوں کی حمد و تقدیس گویا ایک ٹیپ ریکارڈ کی آواز کے مانند ہے اور انسان کی حمد و تقدیس ایک زندہ اور آزاد ہستی کی زبان سے نکلنے والی با اختیار آواز کی مانند۔ اور دونوں میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ مجبوارانہ حمد و تقدیس اگر پوری کائنات کے برابر ہو تب بھی ایک انسان کی آزاد حمد و تقدیس اس کے اوپر بھاری ہو جائے گی۔ اصل یہ ہے کہ اللہ نے ایک انتہائی نفیس قسم کی معیاری دنیا بنائی جس کا نام جنت ہے۔ ابدی لذت و راحت والی اس دنیا کے لئے اللہ کو کچھ باشندے درکار ہیں جن کو وہاں بسایا جائے۔ انہی خوش نصیب روحوں کے انتخاب کے لئے موجودہ دنیا بنائی گئی۔ ایک محدود مدت تک انسانوں کو ان کا امتحان لینے کے لئے یہاں بھیجا جاتا ہے اور جب خدا کا اندازہ مکمل ہو جائے گا اور مطلوب انسانوں کا انتخاب کیا جا چکا ہو گا تو اس کے بعد یہ دنیا ختم کر دی جائے گی۔ اب منتخب افراد کو جنت کی کالونیوں میں ہمیشہ کے لئے بسایا جائے گا۔ اور بقیہ لوگوں کو الگ کر کے انھیں جہنم کے کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے گا تا کہ وہ ابدی حسرت کی سزا بھگتے رہیں۔ یہ مطلوب انسان وہ ہیں جنھوں نے گمراہیوں کے جنگل میں خدا کو دریافت کیا۔ جنھوں نے بدی کے اندھیروں میں نیکی کا راستہ تلاش کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ جنھوں نے سرکشی کے ماحول میں خود اپنے آزاد فیصلے کے تحت اپنے آپ کو خدا کی پابندی میں دے دیا۔ جنھوں نے انسانیت کے طوفان میں تواضع کی روش اختیار کی۔ جن کے اقتدار نے ان کو نہیں بگاڑا۔ جن کو مال ملا مگر وہ فخر کی نفسیات میں مبتلا نہیں ہوئے۔ جن کو موقع تھا کہ وہ اپنی ذات کے لئے جئیں، اس کے باوجود وہ ایک خدا کے لئے جئے۔ جو ڈرے تو صرف خدا سے ڈرے اور جنھوں نے محبت کی تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page