Urdu book · مطالعہ قرآن

انسان کی تخلیق

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

صرف خدا سے محبت کی۔ جن کی خود پسندی ان کے لئے حق کے اعتراف میں رکاوٹ نہیں بنی۔ جو چلنے کی طاقت رکھتے ہوئے خدا کے خوف سے نہیں چلے۔ جن کے پاس بولنے کے لئے زبان تھی مگر خدا کی پکڑ کے احساس نے انھیں بولنے سے روک دیا۔ یہ مطلوب انسان وہ ہے جس نے غیب کا پردہ ہٹنے سے پہلے خدا کو دیکھا اور وہ اس کے آگے بڑھ پڑا۔ جس نے آخرت کی پکڑ کو اتنی زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کیا کہ آخرت میں احتساب کئے جانے سے پہلے دنیا ہی میں خود اپنا احتساب کر لیا۔ جس کا حال یہ ہوا کہ خدا کے ساتھ شدید محبت نے اس کے دل سے دوسری تمام محبتیں نکال دیں۔ اور خدا کے ساتھ شدید خوف نے اس کے لئے دنیا کی تمام خوشیوں اور راحتوں کو بے قیمت بنا دیا۔ 2-005 گروہی نجات نہیں آخرت کی کامیابی کا تعلق کسی بھی درجہ میں گروہ بندی سے نہیں ہے۔ اس کا انحصار تمام تر عمل پر ہے نہ کہ گروہی تعلق پر۔ قرآن کی ایک آیت اس معاملے کو واضح کرتی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے : بے شک جو لوگ مسلمان ہوئے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی، ان میں سے جو شخص ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور اس نے نیک کام کیا تو اس کے لئے اس کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غم گین ہوں گے۔ (البقرہ ٦٢) قرآن کی یہ آیت گروہی نجات کے نظریہ کی نفی کرتی ہے۔ اس آیت میں مسلم گروہ کو بھی دوسرے مذہبی گروہوں کے ساتھ یکساں طور پر پریکٹ کیا گیا ہے۔ اس آیت کے مطابق، گروہ کے اعتبار سے خدا کے نزدیک ایک اور دوسرے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ فرق جو کچھ ہے وہ افراد کی ذاتی سیرت کے اعتبار سے ہے نہ کہ کسی گروہ سے وابستگی کے اعتبار سے۔ آیت میں چار گروہ کا ذکر ہے۔ ایک مسلمان جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں۔ دوسرے یہودی جو اپنے کو حضرت موسیٰ کی امت کہتے ہیں۔ تیسرے نصاریٰ جو حضرت مسیح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page