انسان کی تخلیق
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
کی امت ہونے کے دعویدار ہیں۔ چوتھے صابی جو اپنے کو حضرت نخی کی امت بتاتے تھے۔ اور قدیم زمانے میں عراق کے علاقے میں آباد تھے۔ وہ اہل کتاب تھے اور کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ مگر اب صابی فرقہ ختم ہو چکا ہے۔ دنیا میں اب کہیں اس کا وجود نہیں۔ یہاں مسلمانوں کو دوسرے گروہوں سے الگ نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ ان کا اور دوسرے پیغمبروں سے نسبت رکھنے والی امتوں کا ذکر ایک ساتھ کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گروہ ہونے کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک سب برابر کا درجہ رکھتے ہیں۔ گروہ کے اعتبار سے ایک گروہ اور دوسرے گروہ میں کوئی فرق نہیں۔ سب کی نجات کا ایک ہی محکم اصول ہے۔ اور وہ ہے ایمان اور عمل صالح۔ کوئی گروہ خواہ اپنے کو مسلمان کہتا ہو یا وہ اپنے کو یہودی یا مسیحی یا صابی یا کچھ اور کہے، ان میں سے کوئی بھی گروہ محض ایک مخصوص گروہ ہونے کی بنا پر خدا کے یہاں کوئی خصوصی درجہ نہیں رکھتا۔ درجہ کا اعتبار اس پر ہے کہ کس نے خدا کی منشا کے مطابق اپنی عملی زندگی کو ڈھالا۔ پیغمبر کے زمانے میں جب اس کے ماننے والوں کا گروہ بنتا ہے تو اس کی بنیاد ہمیشہ ایمان اور عمل صالح پر ہوتی ہے۔ اس وقت ایسا ہوتا ہے کہ نبی کی پکار کو سن کر کچھ لوگوں کے اندر ذہنی اور فکری انقلاب آتا ہے۔ ان کے اندر ایک نیا عزم جاگتا ہے۔ ان کی زندگی کا نقشہ جو اب تک ذاتی خواہشوں کی بنیاد پر چل رہا تھا وہ خدائی تعلیمات کی بنیاد پر قائم ہو جاتا ہے۔ یہی لوگ حقیقی معنوں میں پیغمبر کی امت ہوتے ہیں۔ ان کے لئے پیغمبر کی زبان سے آخرت کی نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے۔ مگر بعد کی نسلوں میں صورت حال بدل جاتی ہے۔ اب خدا کا دین ان کے لئے ایک قسم کی قومی روایت بن جاتا ہے۔ جو بشارتیں ایمان و عمل کی بنیاد پر دی گئی تھیں ان کو محض گروہی تعلق کا نتیجہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ وہ گمان کر لیتے ہیں کہ ان کے گروہ کا اللہ سے کوئی خاص رشتہ ہے جو دوسرے لوگوں سے نہیں ہے۔ جو شخص اس مخصوص گروہ سے تعلق رکھے خواہ عقیدہ اور عمل کے اعتبار سے وہ کیسا ہی ہو بہر حال اس کی نجات ہو کر رہے گی۔ جنت اس کے اپنے گروہ کے لئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader