Urdu book · مطالعہ قرآن

انسان کی تخلیق

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ اور جہنم صرف دوسرے گروہوں کے لئے۔ مگر اللہ کا کسی گروہ سے خصوصی رشتہ نہیں۔ اللہ کے یہاں جو کچھ اعتبار ہے وہ صرف اس بات کا ہے کہ آدمی اپنے فکر اور عمل میں کیسا ہے۔ آخرت میں آدمی کے انجام کا فیصلہ اس کے حقیقی کردار کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ گروہی نسبتوں کی بنیاد پر۔ جب کوئی دینی تحریک اٹھتی ہے تو دھیرے دھیرے اس کا ایک گروہ بن جاتا ہے۔ لیکن گروہ کی اہمیت جو کچھ ہے وہ صرف دنیا کے اعتبار سے ہے۔ آخرت میں ہر آدمی خدا کے یہاں اکیلا پہنچے گا۔ ہر فرد اپنے ذاتی کردار کی بنیاد پر یا سزا کا مستحق قرار پائے گا یا انعام کا۔ 2-006 امت وسط امت محمدی کی حیثیت بتاتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اور اسی طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تا کہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر اور رسول ہو تم پر بتانے والا۔ اور جس قبلہ پر تم تھے، ہم نے اس کو صرف اس لئے ٹھہرایا تھا کہ ہم جان لیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اس سے الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور بے شک یہ بات بھاری ہے مگر ان لوگوں پر جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے۔ اور اللہ ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو ضائع کر دے۔ بے شک اللہ لوگوں کے ساتھ شفقت کرنے والا مہربان ہے (البقرہ ۱۴۳) وسط کے معنی بیچ کے ہیں۔ امت وسط کا مطلب ہے بیچ کی امت۔ امت محمدی کو امت وسط اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور اقوام عالم کے درمیان بیچ کی کڑی ہے۔ انھیں پیغمبر اسلام سے خدا کے دین کو کسی کی کمی کی بیچی کے بغیر لینا ہے اور پھر اس کو ٹھیک ویسا ہی اقوام عالم تک پہنچانا ہے۔ یہ عمل نسل در نسل مسلسل جاری رکھنا ہے، یہاں تک کہ قیامت آجاۓ۔ مفسر ابن زید نے آیت کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ (وكذلك جعلناكم أمة وسطا) قال: هم وسط بين النبي صلى الله عليه وسلم وبين الامم۔ (تفسیر الطبری (۸/۴)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page