Urdu book · مطالعہ قرآن

انسان کی تخلیق

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اہل اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر اقوام کے درمیان ہیں۔ خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، عالم انسانی کی یہ ایک مستقل ضرورت ہے کہ اس کے درمیان ہر نسل اور ہر گروہ میں ایسے افراد پیدا ہوتے رہیں جو انسانوں کو مسلسل خدا کے تخلیقی نقشہ سے باخبر کرتے رہیں تاکہ انسان دنیا میں غفلت کی حالت میں نہ جئے بلکہ حقیقت سے پوری طرح باخبر ہو کر زندگی گزارے۔ اسی مشن کے تحت پچھلے زمانوں میں بار بار خدا کے پیغمبر آتے رہے۔ پیغمبر اسلام اس سلسلہ نبوت کی آخری کڑی تھے۔ اب آپ کے بعد کوئی پیغمبر آنے والا نہیں۔ اب اگر چہ سلسلہ نبوت بند ہو چکا ہے، لیکن کار نبوت اب بھی پوری طرح باقی ہے۔ تا کہ انسانیت کی اگلی نسلوں تک بھی اسی طرح حق کا پیغام پہنچتا رہے جس طرح وہ پچھلی نسلوں تک پہنچتا رہا۔ بعد کے زمانے میں پیغام رسانی کے اسی کام کو جاری رکھنے کے لئے امت محمدی کو امت وسط بنایا گیا۔ یہ امت محمدی کی لازمی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ مسلسل پیغام رسانی کے اس کام کو انجام نہ دے تو اس کا امت محمدی ہونا ہی اللہ کی نظر میں مشتبہ ہو جائے گا۔ 2-007 روزہ اسلام میں قرآن میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ اے ایمان والو، تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح وہ تم سے اگلوں پر فرض کیا گیا تھا تا کہ تم متقی بنو (البقرہ ۱۸۳) اس کے بعد یہ حکم دیا گیا ہے کہ اہل ایمان ہر سال رمضان کے مہینے میں پورے مہینہ کا روزہ رکھیں۔ اس کی حکمت یہ بتائی گئی کہ اس سے ان کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہو گا۔ اس کے فوراً بعد فرمایا کہ ــــ اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھے تو میں نزدیک ہوں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔ تو چاہئے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں تاکہ وہ ہدایت پائیں (البقرہ ۱۸۶) روزہ کا تفصیلی حکم قرآن میں اسی ایک مقام پر آیا ہے۔ ان آیات کے مطالعے سے روزہ کے بارے میں جو بنیادی احکام معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page