Urdu book · مطالعہ قرآن

انسان کی تخلیق

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

ا۔ پہلی بات یہ بتائی گئی کہ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا حکم پچھلے پیغمبروں کی شریعت میں بھی دیا جاتا رہا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، پچھلے پیغمبر ہر زمانے میں اور ہر مقام پر آتے رہے ہیں۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ روزہ کا تعلق زمانی حالات یا جغرافی اسباب سے نہیں ہے۔ وہ نماز کی طرح ایک مطلق عبادت ہے۔ روزہ ہمیشہ اور ہر حال میں فرض رہا ہے۔ اور ہمیشہ رہے گا۔ شرعی عذر کے سوا کوئی اور چیز اس کو ساقط کرنے والی نہیں۔ ۲۔ روزہ کا ایک مقصد قرآن میں تقویٰ بتایا گیا ہے۔ یعنی روزہ آدمی کے اندر اللہ کا ڈر پیدا کرتا ہے۔ اللہ سے ڈرنا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی ہر چیز کے بارے میں یہ یقین کرے کہ وہ خدا کا عطیہ ہے۔ اور خدا جب چاہے ان چیزوں کو چھین لے اور ہمیں محروم کر کے رکھ دے۔ رمضان کا روزہ آدمی کے اندر یہی احساس پیدا کرنے کی ایک سالانہ تدبیر ہے۔ اس مہینے میں آدمی خود اپنے ارادہ سے اپنے آپ کو کھانے اور پینے سے وقتی طور پر محروم کرتا ہے۔ اس طرح اپنے آپ پر بھوک اور پیاس طاری کر کے یہ تجربہ کرتا ہے کہ اگر خدا اس کو مستقل طور پر کھانے اور پینے سے محروم کر دے تو وہ کتنی بڑی مصیبت میں مبتلا ہو جائے گا۔ یہ احساس اس کے اندر وہ ربانی کیفیت پیدا کرتا ہے جس کو قرآن میں تقویٰ کہا گیا ہے۔ ۳۔ روزہ کا دوسرا فائدہ قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ آدمی کے اندر شکر کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ آدمی اپنا سارا دن بھوک اور پیاس میں گزارتا ہے۔ یہاں تک کہ اس حال میں شام آ جاتی ہے اور سورج غروب ہوتا ہے۔ اب وہ اپنا روزہ توڑتا ہے اور سیر ہو کر کھاتا اور پیتا ہے۔ اس کے بعد آدمی کا حال وہ ہو جاتا ہے جس کو ایک مسنون دعا میں اس طرح بتایا گیا ہے: ذهب الظماء وابتلت العروق (پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہو گئیں) روزہ کے بعد افطار کا طریقہ آدمی کو تجرباتی طور پر اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ خدا نے پانی اور غذا کی صورت میں انسان کے لئے کتنی بڑی نعمت پیدا کی ہے۔ اور پھر ایک نعمت کے بارے میں یہ تجربہ آدمی کو دوسری تمام نعمتوں کی یاد دلاتا ہے۔ اور اس کا سینہ شکر خداوندی کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page