انسان کی تخلیق
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
جذبہ سے بھر جاتا ہے۔ اس طرح روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ شکر کرنے والا بن کر خدا کی دنیا میں رہے۔ ۴۔ روزہ کی عبادت آدمی کے اندر ایک اور اہم صفت پیدا کرتی ہے۔ اور وہ دعا ہے۔ روزہ کا مہینہ روزہ دار کے لئے روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں آدمی بھوک پیاس کی مشقت اٹھا کر اپنے وجود کے مادی پہلو کو دباتا ہے اور اس کے غیر مادی پہلو کو ابھارتا ہے۔ نمازوں کی کثرت اس کے اندر عبدیت کے احساس کو بیدار کرتی ہے۔ قرآن کو زیادہ سے زیادہ سننے اور پڑھنے سے اس پر قرآن کے معانی کھلتے ہیں۔ اور اس کے اندر خدا کی عظمت کا شعور جاگتا ہے۔ وہ خدا سے ڈرنے والا، خدا کا شکر کرنے والا اور اس کی بڑائی کرنے والا بن جاتا ہے۔ اس طرح روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ خدا سے سچی دعا کرنے والا بن جائے۔ اس کی دعا کیفیات سے بھری ہوئی دعا ہو۔ اس کی دعا ایک تڑپنے والے انسان کی دعا ہو۔ اس کی دعا ایک ایسے انسان کی دعا ہو جو خدا کے پاس پہنچ جائے، جو خدا کے عین قریب ہو کر اس کو پکارنے لگے۔ 2-008 قانون فطرت قوموں کے عروج و زوال کے باب میں فطرت کا ایک قانون بتاتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرہ ۲۴۹) اس آیت میں اذن اللہ سے مراد فطرت کا قانون ہے اور فطرت کا یہ قانون صبر کے اصول پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں کوئی چھوٹا گروہ محض چھوٹا ہونے کی بنا پر مغلوب نہیں ہو جاتا۔ اگر وہ صبر کا ثبوت دے تو عین ممکن ہے کہ وہ اپنے سے بڑے گروہ پر غالب آجائے۔ یہ معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو نفسیات انسانی کے جائزہ اور قوموں کی تاریخ کے مطالعہ سے سمجھی جاسکتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر انسان پیدائشی طور پر اتھاہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader