انسان کی تخلیق
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
صلاحیت کا مالک ہوتا ہے مگر یہ صلاحیت عام حالات میں آدمی کے اندر چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ اس چھپی ہوئی صلاحیت کو جو چیز جگاتی ہے وہ چیلنج ہے۔ جس فرد یا قوم کو اپنے ماحول کی طرف سے چیلنج پیش آئے، اس کی صلاحیت جاگ اٹھے گی۔ وہ پہلے اگر صرف ایک بشر (man) تھا تو چیلنج کی زد میں آنے کے بعد وہ فوق البشر (super man) بن جائے گا۔ اب وہ ایسے کارنامے انجام دے گا جس کا تصور بھی چیلنج سے پہلے نہیں کیا جا سکتا تھا۔ جس سماج میں دو گروہ ہوں، ایک اقلیتی گروہ اور دوسرا اکثریتی گروہ، ایسے سماج میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اکثریت کی طرف سے اقلیت کو چیلنج پیش آتا ہے۔ زندگی کے ہر محاذ پر اقلیت کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اکثریت اس کو دبالے گی۔ وہ اکثریت کے مقابلہ میں مغلوب ہو کر رہ جائے گا۔ یہ صورت حال اقلیت کے لئے ایک سخت امتحان ہوتی ہے۔ اب اس کے لئے رد عمل کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک صابرانہ رد عمل، دوسرا غیر صابرانہ رد عمل۔ غیر صابرانہ رد عمل یہ ہے کہ اقلیتی گروہ شکایت اور احتجاج کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے۔ وہ منفی طریقوں سے اس کا جواب دینے کی کوشش کرے۔ یہ گویا چیلنج کے مقابلہ میں منفی جواب (negative response) دینا ہے۔ اور جو اقلیت چیلنج کے مقابلہ میں اس قسم کا منفی جواب دے وہ مایوسی اور پست ہمتی کا شکار ہو کر رہ جائے گی۔ اس کی فطری صلاحیتیں بدستور خوابیدہ حالت میں پڑی رہیں گی۔ ایسی اقلیت چیلنج کے اندر گھر کر اسی طرح ختم ہو جائے گی جس طرح چھوٹی چڑیاں طوفان میں گھر کر ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس جو اقلیت چیلنج کے مقابلہ میں صابرانہ روش کا ثبوت دے وہ گویا طوفان کی بڑی چڑیا (big bird of the storm) ہے۔ وہ اپنے طاقتور بازوؤں سے اڑ کر اوپر چلی جائے گی اور اس طرح اپنے آپ کو طوفان کی زد سے بچا لے گی۔ چیلنج کے مقابلہ میں صبر کا رویہ اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی مقابلہ کی نفسیات کے ساتھ اس کا استقبال کرے ۔ وہ اپنے آپ کو اس سے بچائے کہ اس کا دماغ درہم برہم ہو جائے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader